منیر مینگل کو ’جان کا خطرہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بلوچ وائس‘ نامی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر منیر مینگل دو سال کی قید کے بعد فروری میں رہا کر دیے گئے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اب بھی ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں اور انٹیلیجنس والے ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ منیر مینگل نے قلات سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قانونی طور پر انہیں تئیس فروری کو رہا کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے دس ستمبر کو ان کے رہائی کے احکامات جاری کر دیے تھے مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ منیر مینگل نے بتایا کہ انہیں چار اپریل دو ہزار چھ کو دبئی سے کراچی ائرپورٹ واپس پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔ان کا پاسپورٹ رکھ لیا گیا اور سول کپڑوں میں ملبوس کچھ لوگ انہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں شام پانچ بجے تک بٹھائے رکھا گیا اور بعد میں انہیں ملیر چھاؤنی منتقل کر دیا گیا تھا۔ منیر مینگل نے بتایا کہ ان سے یہ بار بار پوچھا گیا کہ آپ بلوچ ہیں اور دیہات سے تعلق رکھتے ہیں آپ نے چارٹرڈ اکاؤنٹنگ کیسے اور کیوں کی؟ انہوں نے تمام تفصیلات بتائیں مگر یہ افراد ان سے کہتے رہے کہ آپ تعلیم یافتہ ہوکر بھی قوم پرست خیالات کیوں رکھتے ہیں؟ منیر مینگل کے مطابق پانچ ماہ کے بعد انہیں کہا گیا کہ آپ بے قصور ہیں مگر ہم بلوچ قوم کو میڈیا سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور آپ واحد تعلیم یافتہ بندے ہیں جو ان کی شعور کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ منیر مینگل نے بتایا کہ قید کے دوران نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے غرض سے مسلحافراد کے درمیان والدہ سے ان کی ملاقات کرائی گئی اور والدہ کو کہا گیا کہ وہ مجھے سمجھائیں کہ میں حکام کی مدد کروں ورنہ سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان پر سی آئی ڈی نے غداری کے الزام میں ایک ایف آئی آر درج کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ’دو سال قبل آپ نے تقریر کی ، جس میں کہا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں ہے بلکہ ثقافتی، معاشی، سیاسی اور سماجی مسئلہ ہے‘ جس سے عوام کے جذبات بھڑکائے گئے تھے۔ منیر مینگل نے بتایا کہ غداری کے الزام میں جب ان کو انسداد دہشت گردی کے عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے مقدمہ چلانے سے انکار کیا جس کے بعد انہیں سیشن جج کے پاس لے جایا گیا۔ جج نے تفتیشی پولیس افسر کو ہتھکڑیاں لگوائیں اور نوکری سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا مگر پولیس افسر نے معافی مانگی اور کہا کہ حکام کا حکم ہے کہ منیر مینگل کو رہا نہیں کرنا ہے۔ بعد میں عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔ منیر مینگل نے بتایا کہ جب واپس انہیں جیل لایا گیا تو حکام نے انہیں بتایا کہ وہ ایم پی او کے تحت گرفتار ہیں مگر اس بارے میں انہیں کوئی خط وغیرہ نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق ایم پی او کے تحت تین ماہ تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے مگر انہیں پانچ ماہ قید کیا گیا۔ رہائی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ رہائی سے قبل ایک افسر ملاقات کے لیے آیا۔ اس نے اپنا تعارف بھی نہیں کرایا اور کہا کہ وہ اعلیٰ حکام کی طرف سے انہیں لینے کے لیے آیا ہے مگر انہوں نے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ رات کو گیارہ بجے ان سے پھر کہا گیا کہ آپ رہا ہیں مگر انہوں نے گھر والوں سے رابطہ نہیں کرایا اور کوئی دستاویز فراہم نہیں کیے جس وجہ سے انہوں نے ایک مرتبہ پھر رہا ہونے سے انکار کیا۔ منیر مینگل کے مطابق دوسرے روز صبح کو انہیں رہا کیا گیا اور جب وہ کوئٹہ میں اپنے گھر پہنچے تو انٹلیجنس ادارے کے اہلکاروں نے گھر کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور ان کی سرگرمیاں محدود کردی گئیں اور کئی دن کے بعد وہ قلات میں رشتہ داروں کے پاس آ سکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میری زندگی کو خطرہ ہے، جہاں بھی نکلتا ہوں ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں جانی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ میرے بولنے اور لکھنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔‘ قید کے ابتدائی پانچ ماہ کو یاد کرتے ہوئے منیر مینگل نے کہا کہ ان پر ایسے ایسے تشدد کیا گیا جس کو بیان کرنے سے ہی ان کی رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچی ٹی وی کا ایم ڈی لاپتہ11 April, 2006 | پاکستان لاپتہ بلوچوں کی رہائی کے لیےمظاہرہ24 May, 2006 | پاکستان گمشدہ بلوچوں کا معمہ حل نہ ہو سکا01 May, 2006 | پاکستان بلوچ ویب سائٹوں پر پابندی27 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||