BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 May, 2008, 05:48 GMT 10:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باڑہ میں مدرسے پر خودکش حملہ

حاجی نامدار
حملے کے وقت تنظیم’امر بالمعروف‘ کے امیر حاجی نامدار چندہ لے رہے تھے
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں جمعرات کی صبح بظاہر ایک خود کش حملے میں حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک جبکہ اٹھارہ سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح تحصیل باڑہ سے تقریباً آٹھ کلومیٹر دور بر قمبر خیل میں تکیہ کے مقام پر واقع ایک مدرسہ میں اس وقت پیش آیا جب قران کی تدریس کے بعد چندہ جمع کیا جا رہا تھا۔

درس قرآن میں موجود ایک عینی شاہد محمد ظریف نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً صبح آٹھ بجے درس قرآن کے ختم ہونے کے بعد مقامی تنظیم’امر بالمعروف‘ کے امیر حاجی نامدار چندہ جمع کر رہے تھے کہ اس دوران ایک نوجوان آگے بڑھا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

بم حملے کا ایک زخمی

ان کے بقول حملے میں حاجی نامدار تو محفوظ رہے البتہ کئی افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد موقع پر پہنچنے والے ایک شخص حوال جان نے بی بی سی کو بتایا کہ بیس سے زائد زخمیوں کو اٹھاکر ڈوگرہ اور پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان زخمیوں میں سے دو افردا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں دم توڑ گئے۔

حوال جان کے مطابق خود کش حملہ آور کی لاش مدرسے میں پڑی ہے اور اس کے جسم کا اوپر کا حصہ صحیح سلامت ہے۔

حوال جان کا مزید کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور کی لاش کے ساتھ بارود بھی پڑا ہے جو دھماکہ کے وقت نہیں پھٹا۔ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں زیادہ جانی نقصان نہیں ہواہے۔

خیبر ایجنسی باڑہ میں گزشتہ کئی سالوں سے کئی مقامی شدت پسند تنظیمیں ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہیں ۔ مبینہ خوکش حملے کا نشانہ بننے والے حاجی نامدار کی ’امربالمعروف‘ نامی تنظیم اور ’تکیہ‘ نامی ایک مقامی مسلح گروپ کے درمیان ماضی میں شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔

اس کے علاوہ منگل باغ کی تنظیم لشکر اسلام اور انصارالسلام کے درمیان اب بھی وقتاً فوقتاً جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں جس میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔تاہم کسی بھی گروپ پر ہونے والا یہ پہلاخودکش حملہ ہے جس سے شدید اختلافات کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
باڑہ میں بدستور کشیدگی
24 April, 2007 | پاکستان
باڑہ جھڑپوں میں تین ہلاک
21 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد