BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 April, 2007, 19:35 GMT 00:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باڑہ میں کشیدگی، چوکیاں نذر آتش

باڑہ (فائل فوٹو)
مشتعل مظاہرین نے مکانات کو بھی نذر آتش کیا(فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں ایک مذہبی گروہ کے سینکڑوں کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے اتوار کو سکیورٹی فورسز کی پانچ چوکیاں نذر آتش کر دیں، متعدد دکانیں لوٹیں اور مخالف گروہ کے چار افراد کے مکانات مسمار کر دیے۔

باڑہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لشکر اسلامی سے تعلق رکھنے والے مشتعل مظاہرین کو، جن میں اکثریت سکول اور کالج کے طلبہ کی بتائی جاتی ہے، منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے ہوائی فائرنگ، لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔ اس دوران چھ افراد جن میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار بھی شامل ہے زخمی بھی ہوئے۔

لشکر اسلامی کے امیر منگل باغ نے دو روز قبل اپنے ایف ایم ریڈیو پر دھمکی دی تھی کہ اگر سکیورٹی فورسز نے ان کے مراکز پر اپنا قبضہ ختم نہ کیا تو ایک احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

اتوار کی صبح علاقہ سپاہ، اکاخیل، ملک دین خیل اور شلوبر سے سینکڑوں کی تعداد میں مسلح افراد جن میں اکثریت طلبہ کی بتائی جاتی ہے باڑہ پہنچ کر سکیورٹی فورسز کی چوکیوں کو نذر آتش کر دیا۔ مظاہرین نے موبائل اور چند دیگر دوکانوں میں توڑ پھوڑ کے علاوہ لوٹ مار بھی کی اور ٹیلیفون بوتھ بھی توڑ دیا۔

ہوائی فائرنگ سے بھی مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی گئی (فائل فوٹو)

خاصہ داروں، لیویز اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے آنسو گیس پھینکی اور لاٹھی چارج کیا۔ ہوائی فائرنگ سے بھی مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی گئی۔

باڑہ بازار کے علاوہ مظاہرین نے قریبی ایف سی گیٹ کے علاقے کا بھی رخ کیا اور وہاں ویڈیو کی دوکانوں میں توڑ پھوڑ کی۔ اس علاقے میں ایک دوکان کے مالک عبدالحکیم نے بتایا کہ ان کا ساڑھے تین لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

مشتعل مظاہرین نے خلیفہ مجید ملنگ، غنی ملنگ، شہباز خان اور بادشاہ کے مکانات کو نذر آتش کیا۔ بعد میں ان افراد نے اپنے مخالف گروپ کے سربراہ پیر سیف الرحمان کے مکان پر حملہ کیا جہاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ان کا دو گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ باڑہ عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ شرپسندوں نے بچوں کو بطور ڈھال استعمال کیا جس وجہ سے ان کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جا سکی۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

باڑے کے علاقے میں گزشتہ کئی ماہ سے دو مخالف مذہبی گروہوں کے درمیان لڑائی سے حالات کشیدہ ہیں۔ حکومت کی جانب سے متعدد بار ان گروپوں کے خلاف کارروائی سے بھی یہ مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوسکا ہے۔

اسی بارے میں
باڑہ جھڑپوں میں تین ہلاک
21 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد