باڑہ میں تشدد، چھ افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باڑہ میں حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو سرگرم مقامی شدت پسند تنظیم لشکر اسلامی کے حمایت یافتہ طلباء اورسکیورٹی فورسز کے درمیان ایک تازہ جھڑپ میں چھ طالبعلم ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی صبح اس وقت پیش آیا جب مقامی شدت پسند تنظیم لشکر اسلامی کے حامی طلباء باڑہ سے تقریباً چار کلومیٹر دور منڈئی کچ کے مقام پراپنے مخالف گروپ کے رہنما پیر سیف الرحمن کے گھر پر حملے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہاں پر تعینات فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کےجوابی حملے میں چھ طلباء ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ طلباء کےاحتجاج میں شامل مدرسے کے ایک طالبعلم عبدالغنی نے بی بی سی کو بتایا کہ’ ہم پرامن احتجاج کے لیے جمع ہورہے تھے کہ ہم پر سیکورٹی فورسز نے مارٹر گولوں سے حملہ کیا۔‘ انکا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ انکے مخالف پیر سیف الرحمن کی جائداد کو لشکر اسلامی کے حوالے کیاجائے اور انکے مذہبی استاد مفتی منیر شاکر کو رہا کر کے باڑہ واپس آنے کی اجازت دی جائے اور لشکر اسلامی کے تمام مراکز سے حکومتی قبضہ ختم کیا جائے۔
لشکر اسلامی کے ایک رہنما حاجی مستری گل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حملے میں چھ طلباء کی ہلاکت اور دس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔انکے مطابق ہلاک ہونے والوں میں لشکر اسلامی کے سربراہ منگل باغ کا بھتیجا محمد رحمان بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکے مخالف پیر سیف الرحمن کی جائیداد کی حوالگی تک ان کاپرامن احتجاج جاری رہے گا۔ باڑہ میں ایک مقامی صحافی اورنگزیب نے بتایا کہ احتجاج کرنے والوں میں سینکڑوں کی تعداد میں پرائیویٹ اور سرکاری سکول و کالج کے طلباء نےحصہ لیا۔ تاہم احتجاج میں مسلح قبائلیوں نے بھی شرکت کی۔ ایک اور صحافی خیال محمد شاہ نے بتایا کہ کہ انہوں نےگیارہ کے قریب زخمی طلباء کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ زخمی ہونے والے طلباء کو باڑہ کے مقامی ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ شدید زخمیوں کوپشاور منتقل کیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد باڑہ کا بازار مکمل طور پر بند ہو گیا ہے اور شہر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ لشکر اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ پیر کی شام چار بجے پڑھائی جائے گی۔ واضح رہے کہ اتوار کے روز مذہبی گروہ لشکر اسلامی کے سینکڑوں کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی پانچ چوکیاں نذر آتش کر دی تھیں اور متعدد دکانیں لوٹ کر مخالف گروہ کے چار افراد کے مکانات مسمار کر دیے تھے۔
باڑہ میں ڈیڑھ سال قبل پنچ پیری مسلک کے رہنماء مفتی منیر شاکر اور اہل سنت کے افغان نژاد رہنماء پیر سیف الرحمٰن کے حامیوں میں مذہبی عقائد کی بنیاد پر کئی جھڑپیں ہوئی تھیں لیکن حکومت اور قبائلیوں کی کاوشوں سے دونوں رہنماؤں نے علاقہ چھوڑ دیاتھا تاہم علاقے میں دونوں شخصیات کے حامیوں نے تنظیمیں قائم کر کے ایک دوسرے کے خلاف حملے جاری رکھے۔ حالیہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب مفتی منیر شاکر کے حمایت یافتہ تنظیم لشکر اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فرنٹیئر کور کے زیر قبضہ پیر سیف الرحمن کی جائداد کو انکے حوالے کردے مگر حکومت نے مطالبہ ماننے سے انکار کردیا۔ باڑہ میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران متحارب گروپوں کے درمیان تصادم اور حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سو بیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں باڑہ میں کشیدگی، چوکیاں نذر آتش22 April, 2007 | پاکستان لشکراسلامی کااہم مرکز تباہ 19 April, 2007 | پاکستان خیبر ایجنسی میں دھماکہ، ہلاکتیں01 February, 2007 | پاکستان خیبر ایجنسی تصادم میں چھ ہلاک16 November, 2006 | پاکستان خیبر ایجنسی تشدد میں تین ہلاک12 August, 2006 | پاکستان باڑہ جھڑپوں میں تین ہلاک21 July, 2006 | پاکستان باڑہ: مذاکرات ناکام، کشیدگی جاری26 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||