بلوچستان: سوئی کے نواح میں گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں سنیچر کو صبح سویرے سوئی کے مضافات میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ سرچ آپریشن میں لگ بھگ پچاس افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ دو بھائیوں کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ڈیرہ بگٹی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی سوئی اور جعفرآباد کے سرحدی علاقے پٹ فیڈر میں لنجو صغاری اور قریبی دیہاتوں میں کی گئی ہے جہاں پچاس افراد کو گرفتار کرکے دو ٹرکوں میں ڈیرہ بگٹی لایا گیا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے ڈیرہ بگٹی کے رہنما شیر محمد بگٹی نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ اس کارروائی میں فورسز نے کئی مکانات اور تیار فصلوں کو آگ لگا دی ہے اور دو افراد کو ہلاک کیا ہے۔ سوئی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اس کارروائی میں سوئی سے فرنٹیئر کور اور ادھر سندھ کی جانب سے رینجرز نے حصہ لیا ہے اور گرفتار افراد کو سوئی بازار سے گزار کر ڈیرہ بگٹی لے جایا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ یاد رہے دسمبر دو ہزار پانچ میں جب کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا تو سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی جا رہی تھی لیکن مقامی لوگ مسلسل یہ بتا رہے تھے کہ ان علاقوں میں فوجی کارروائی ہو رہی ہے جس کی بعد یہ کہہ کر تصدیق کر دی گئی تھی کہ یہ کارروائی فراری کیمپوں کے خلاف ہو رہی ہے جہاں مشتبہ افراد روپوش ہیں اور قومی تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں۔ اس کے بعد اگست دو ہزار چھ میں نواب اکبر بگٹی کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں فوج کی جانب سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، بلوچستان کے گورنر نواب ذوالفقار مگسی اور وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی کو بلوچستان میں فوجی آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی جس کے بعد سنیچر کو ڈیرہ بگٹی میں مشتبہ افراد کی گرفتاریوں کے لیے سرچ آپریشن کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کوئٹہ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ انہوں نے فوجی حکام سے کہا تھا کہ جب تک انہیں بلوچستان حکومت کے سربراہوں کے ہمراہ بریفنگ نہیں دی جاتی تب تک بلوچستان میں فوجی آپریشن روکا جائے لیکن جس وقت وہ کابینہ سے خطاب کر رہے تھے اس وقت بھی فوجی کارروائی کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ جمہوری وطن پارٹی براہمدغ گروپ کے رہنما عبدالقادر قلندرانی نے کہا ہے کہ کچھ روز پہلے تین بگٹیوں کو جلا دیا گیا تھا اور بڑی تعداد میں مری بگٹی قبیلے کے لوگ بے گھر پڑے ہیں لیکن نہ تو حکومت اور نہ ہی بین الاقوامی تنظیمیں اس غیر انسانی رویوں کی طرف توجہ دے رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں سوئی: ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ26 January, 2005 | پاکستان بلوچستان: راکٹ اور بم دھماکے26 January, 2005 | پاکستان سوئی میں فوجی آپریشن کاخوف21 January, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||