تربت : سیلاب متاثرین کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر تربت میں سیلاب سے متاثرہ افراد نے پیر کو احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک سال پورا ہونے کو ہے لیکن ان کی کوئی امداد نہیں کی گئی ہے۔ تربت میں ضلعی رابطہ افسر اور ناظم کے دفتر کے باہر بڑی تعداد میں خواتین مرد اور بچوں نے احتجاج کیا۔ متاثرین نے کہا ہے کہ تربت کی بڑی آبادی آج بھی سخت گرمی میں پھٹی ہوئی جھونپڑیوں میں پڑے ہیں لیکن نہ تو حکومت اور نہ ہی ضلعی انتطامیہ ان کے لیے کچھ کر رہی ہے۔ خواتین نے تربت سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اور ان کی حکومت نے بڑے بڑے وعدے تو کیے تھے لیکن سیلاب کے متاثرین کی کوئی امداد نہیں کی گئی۔ یاد رہے گزشتہ سال جون میں بلوچستان میں شدید سیلاب سے ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک لاکھ سے زیادہ متاثر ہوئے تھے جن میں ایک بڑی آبادی بے گھر ہوگئی تھی جس کے لیے نہ تو بین الاقوامی سطح پر امداد طلب کی گئی تھی اور نہ ہی حکومت پاکستان نے ان لوگوں کی کوئی مدد کی تھی۔ |
اسی بارے میں نئےطوفان کا خطرہ، امداد کی اپیل نہیں01 July, 2007 | پاکستان مزید بارشوں کی پیشگوئی01 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: سیلاب اور امداد30 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||