عزیزاللہ خان بی بی سیی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ |  |
بلوچستان کے شہر ڈیرہ اللہ یار میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں نواب اکبر بگٹی کے منحرف کمانڈر وڈیرہ بنگل بگٹی سمیت دو افراد ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ وڈیرہ بنگل بگٹی اپنے گاؤں سم شاہ سے ڈیرہ اللہ یار آ رہے تھے کے شہر کے قریب راستے میں زور دار دھماکہ ہوا ہے۔ اس دھماکے میں وڈیرہ بنگل بگٹی اور ان کے ہمراہ گاڑی میں سوار نوجوان چنگیز ہلاک جبکہ ایک بچہ منظور زخمی ہوا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ دھماکہ بارودی سرنگ سے کیا گیا یا ریموٹ کنٹرول سے۔ دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا ہے۔ سرباز بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ وڈیرہ بنگل نواب اکبر بگٹی کا ایک کمانڈر تھا لیکن بعد وہ ہتھیار ڈال کر حکومت کا حامی بن گیا تھا اور مزاحمت کاروں کی مخبری کرنے لگا۔ یاد رہے کہ وڈیرہ بنگل بگٹی پر تین مرتبہ پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں لیکن ان حملوں میں وہ محفوظ رہے تھے۔ ان پر آخری حملہ گزشتہ ماہ ڈیرہ اللہ یار شہر کے قریب صحبت پور چوک پر ہوا تھا۔
 | وڈیرہ بنگل پر الزامات  وڈیرہ بنگل نواب اکبر بگٹی کا ایک کمانڈر تھا لیکن بعد وہ ہتھیار ڈال کر حکومت کا حامی بن گیا تھا اور مزاحمت کاروں کی مخبری کرنے لگا  سرباز بلوچ |
اس سے پہلے نواب اکبر بگٹی کے ایک منحرف کمانڈر بنگان بگٹی کو گزشتہ سال سوئی کے قریب ہلاک کیا گیا تھا جب کہ سعید بگٹی پر دو مرتبہ حملے ہو چکے ہیں جن میں وہ محفوظ رہے ہیں۔ سرباز بلوچ نے کہا ہے کہ مزاحمت کاروں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین لنجو سغاری کے قریب جھڑپیں صبح سے جاری ہیں جس میں تاحال نقصان کی اطلاع انہیں موصول نہیں ہوئی ہے۔ |