مظہر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن |  |
| | بالاچ مری اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی۔ فائل فوٹو |
بلوچستان کے سابق گورنر اور رہنما نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی نے اس طرح کی افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے کہ مزاحمت کار رہنما بالاچ مری کی ہلاکت میں وہ کسی طرح سے ملوث ہیں۔ بلوچستان میں کسی خفیہ مقام سے بی بی سی لندن کے دفتر فون کر کے انہوں نےکہا کہ ’جو کوئی بھی اس طرح کی افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ صرف ایک جھوٹے اور گھٹیا ذہن کی نشاندہی کرتا ہے۔ میرا حقیقت میں کوئی بھائی نہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر میرا کوئی بھائی تھا تو وہ تھا بالاچ۔‘ براہمداغ بگٹی نے کہا کہ وہ پچھلے تین چار برسوں سے بالاچ کے ساتھ تھے اور ہمیشہ رابطے میں رہتے تھے لیکن پچھلے پندرہ بیس روز سے وہ رابطے میں نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’اس آپریشن کے دوران بالاچ کے ساتھ نہیں تھے۔‘براہمداغ بگٹی نے کہا کہ وہ بلوچستان سے ہی بات کررہے ہیں لیکن وہ اپنا خفیہ مقام بتانے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بالاچ کی موت سے بلوچستان کی حقوق کی جدوجہد میں مزید تیزی آئے گی۔ ’اگر میں اس سلسلے میں کچھ کہوں تو شائد مناسب نہ ہو لیکن یہ تو آئندہ آنے والے دنوں میں ہی پتہ چلے گا کہ جد وجہد کمزور ہوئی ہے یا اس میں تیزی آئی ہے۔‘ براہمداغ بگٹی نے انسپکٹر فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل سلیم نواز کے اس بیان پر کہ بالاچ کی ہلاکت باہمی عناد کی وجہ سے ہوئی ہے، رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس سلسلے میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ حکمرانوں کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اس مزاحمت کو اس تحریک کو اپنی طاقت سے بزور فوج کچھ نہیں کرسکے تو اب وہ اس طرح کے ہتھکنڈے ااستعمال کررہے ہیں۔ بالاچ میرا بھائی تھا اور سب سے عزیز تھا۔‘ |