’بگٹی قتل تفتیش بھی یو این سے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بینظیر بھٹو کے قتل کی طرح نواب اکبر بگٹی، بالاچ مری اور بلوچوں کے قتل کی تحقیقات بھی اقوام متحدہ سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کراچی میں رہائی کے بعد اپنے والد سردار عطااللہ مینگل کی رہائش گاہ پر جمعہ کی شب پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انگریزوں کی بنائی ہوئی اونچی دیواروں سے ان کے حوصلے بلند تھے اور آج حق اور سچ کی فتح ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن مسئلہ ان کی رہائی کا نہیں ہے وہ تو ڈیڑھ سال سے قید تھے۔ ’بلوچستان گزشتہ ساٹھ سالوں سے قید ہے اور گزشتہ آٹھ سالوں میں ہزاروں لوگوں کو اغواء اور بزرگوں کو شہید کیا گیا اور بے گورو کفن لاشیں دی گئی ہیں۔‘ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ ان کی رہائی سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنا ہوگا۔ ’جب اس کو سمجھا گیا تو پھر یہ آسانی سے حل ہوجائیگا، صرف چند ایف سی پوسٹیں ختم کرنا مسئلے کا حل نہیں اعتماد سازی کے لیے فورسز کے ساتھ فوج انخلاء بھی ضروری ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ جب تک ہزاروں کی تعداد میں جو لوگ غائب ہیں انہیں پیش نہیں کیا جاتا اور جو فوجی آپریشن کی وجہ سے گھر بار چھوڑ چکے ہیں انہیں واپس آباد نہیں کیا جاتا تب تک کوئی بھی باشعور اور غیرت مند پارٹی کے ساتھ تعلق رکھنا والا شخص مذاکرات کی ٹیبل پر نہیں بیٹھے گا۔ انہوں نے ضمنی انتخابات میں بھی حصہ نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’جب دیگوں میں حصہ دار نہیں تھے تو پھر خیرات میں حصہ دار کیوں بنیں گے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ابھی بھی وہ پارلیمانی سیاست پر اعتماد نہیں رکھتے تو ان کا کہنا تھا کہ پچھلی پارلیمنٹ ایک ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ تھی جس میں نواب اکبر بگٹی کی فاتحہ کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی، اس لیے انہوں نے اس سے استعفیٰ دیا۔ اور موجودہ اسمبلیوں میں اس لیے حصہ نہیں لیا تھا کہ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ بھی اس سے مختلف نہیں ہوگی۔ مگر ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے وقت کے ساتھ سب کو پتہ چل جائیگا۔ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ اس ملک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان تمام مسائل کی جڑ مشرف موجود ہے اس وقت تک نہ یہاں مکمل جمہوریت آئےگی اور نہ آزاد عدلیہ آسکے گی۔ مشرف کی بقاء اسی میں ہے کہ وہ یہاں انتشار پھلائے۔ اگر سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اصلی جمہوریت چاہتے ہیں تو اس پر شب خون مارنے والے کا خاتمہ کرنا پڑیگا۔ جب ان سے سوال کیا کہ کیا وہ لشکر بلوچستان کے نام سے لانگ مارچ جاری رکھیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں مستقبل کا لائحہ عل طے کیا جائیگا۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو جدوجہد میں پہلے کبھی لرزش آئی ہے نہ اب آئیگی۔ یاد رہے کہ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل کو تقریباً دوسال کی قید کے بعد جمعہ کی شام رہا کیا گیا تھا۔ سندھ حکومت نے ان کے خلاف ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے اغوا اور تشدد کا مقدمہ واپس لے لیا تھا جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔ | اسی بارے میں اختر مینگل کی رہائی پر خوشیاں09 May, 2008 | پاکستان اختر مینگل کی رہائی کا حکم02 May, 2008 | پاکستان مینگل کی رہائی کے لیے پہیہ جام11 April, 2008 | پاکستان ’بلوچوں کو مسئلہ معافیوں سے آگے‘05 March, 2008 | پاکستان ’اختر مینگل کی طبعیت ناساز ہے‘02 March, 2008 | پاکستان بلوچستان: کئی علاقوں میں ہڑتال04 March, 2008 | پاکستان پی پی پی کی بلوچوں سےمعافی 24 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||