BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچوں کو مسئلہ معافیوں سے آگے‘

سردار اختر مینگل
سردار اختر مینگل نومبر 2004ء سے حکومت کی تحویل میں ہیں
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ جیل میں ان سے جنگی قیدی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

سردار اختر مینگل کا کراچی سینٹرل جیل میں اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں، بدھ کو ایک مرتبہ پھر ان کا ادارہ برائے امراض قلب سے طبی معائنہ کروایا گیا۔ سردار اختر مینگل پر حساس اداروں کے اہلکاروں کے اغوا اور تشدد کا الزام ہے۔

سینٹرل جیل سے تحریری طور پر میڈیا کو بھیجےگئے اپنے پیغام میں بلوچ قوم پرست رہنما نے کہا ہے کہ ’میں پہلا بلوچ نہیں جو حکمرانوں کے بنائے گئے قوانین کے تحت جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہوں، مجھے سے پہلے اور آج بھی کئی ہزار بلوچ اس راہ کی سختیوں کو جھیل کر سرخرو ہوئے ہیں۔‘

اختر مینگل نے کہا کہ نہ تو بلوچ بزرگوں کو یہ سختیاں اپنے مقصد سے دور کر سکیں تھیں اور نہ انہیں دور رکھ سکتی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بلوچوں سے معافی مانگنے پر تبصرے کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ اب معافیوں سے آگے نکل چکا ہے۔

اختر مینگل نے کہا کہ

مالک جی ایچ کیو تو معافی کیسی؟
 ہمیں معافی مانگنے والوں سے توقعات نہیں بشرطیکہ وہ مکمل طور پر بااختیار ہوں اور ماضی کے حکمرانوں کی طرح بے بس نہ ہوں اگر اختیارات کا مالک جی ایچ کیو ہی ہے تو پھر اگلی بار بلوچ کسی کو معافی کا موقعہ نہیں دیں گے۔‘
اختر مینگل
ماضی میں بھی ہر نئے آنے والے حکمران نے بلوچستان کے مسئلے کو معافی سے شروع کر کے بےگور و کفن لاشوں کے تحفے دینے تک پہنچایا تھا۔ ’ہمیں ان سے ایسی توقعات نہیں ہیں بشرطیکہ وہ مکمل طور پر بااختیار ہوں اور ماضی کے حکمرانوں کی طرح بے بس نہ ہوں اگر اختیارات کا مالک جی ایچ کیو ہی ہے تو پھر اگلی بار بلوچ کسی کو معافی کا موقعہ نہیں دیں گے۔‘

حالیہ انتخابات کے بارے میں اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو بکھرا ہوا مینڈیٹ دیا گیا ہے، اس لیے موجودہ حالات کا اس مینڈیٹ کے ساتھ مقابلہ کرنا بہت کٹھن کام ہے، لیکن پھر بھی یہ جماعتیں ایجنسیوں کی سازشوں سے بچ نکلیں اور ساتھ دینے میں کامیاب رہیں تو یہ ایک معجزے سے کم نہیں ہوگا۔

مگر ماضی کی غلطیوں کو دہرایا گیا تو پھر خدا ہی حافظ ہوگا۔

اختر مینگل کے مطابق بلوچستان کے ساتھ گزشتہ ساٹھ برسوں میں جو سلوک برتا گیا ہے اور جو زیادتیاں کی گئی ہیں وہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارا اور پاکستان کا رشتہ ایک فاتح اور ایک مفتوح علاقے کا ہے۔

’اس ملک کے اصل حکمرانوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ملکی معشیت کو ہی مفلوج نہیں بنایا بلکہ وہ معاملات جو سیاسی طور پر حل کیے جا سکتے تھے ان کو انہوں نے بندوق کے زور پر حل کرنے کی کوشش کی۔ جس وجہ سے یہ معاملات اتنے پیچیدہ ہوگئے ہیں کہ ان کا حل بہت ہی مشکل ہے اور اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑےگا۔‘

واضح رہے کہ سردار اختر مینگل کو پولیس نے ستائیس نومبر 2004 کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، انہیں حب میں واقع اُن کے ایک فارم ہاؤس میں نظر بند کیا گیا، جس کے کچھ عرصہ بعد اُنہیں کراچی سینٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے ۔

سردار منگل’مسئلہ سادہ سا ہے‘
’مشرف بش کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے‘
عطاللہ مینگلہم تھک گئے: مینگل
’مشرف کے ہوتے ہوئے مفاہمت کا امکان نہیں‘
سردار عطاءاللہ مینگلفوجی دستے پرحملہ
بی این پی پر پابندیوں کی تیاری: مینگل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد