اختر مینگل کو زہر دینے کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی جیل میں قید بلوچ قوم پرست رہنما سردار اختر مینگل کے وکیل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے موکل کو جیل میں زہر دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل کے وکیل بیرسٹر عزیز شیخ نے جمعہ کو سنٹرل جیل کراچی کے سپرنٹینڈنٹ کو ایک درخواست دی ہے جس میں کہا گیا کہ سردار اختر مینگل کے ملازم کو اجازت دی جائے کہ وہ جیل کے اندر انہیں کھانا پہنچائے۔ وکیل کے مطابق اگر ایسا ممکن نہ ہو تو سردار اختر کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ جیل حکام کی موجودگی میں کھانا وصول کریں اور یہ کھانا ڈاکٹر کے معائنے کے بعد اختر مینگل کو فراہم کیاجائے۔ بیرسٹر عزیز اللہ شیخ نے بتایا کہ درخواست میں جیل سپرنٹنڈنٹ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ سردار اختر مینگل کے قتل کے ذمے دار ہوں گے۔ بیرسٹر عزیز اللہ شیخ نے بتایا کہ سردار عطااللہ مینگل کو ان کے باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ ان کے بیٹے کو جیل میں خفیہ ادارے زہر دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سردار اختر کا ملازم جیل میں ان کا کھانا دیکر جاتا تھا جو چار پانچ بجے چیکنگ کے بعد سردار اختر کو مل جاتا تھا۔ پچیس اپریل کی شام کو جیل میں ایک واقعے ہوا کہ اس روز سردار اختر کو گھر کا کھانا نہیں ملا مگر خوبصورت ڈبوں میں پیک کھانا پہنچایا گیا،جن پر یہ تحریر تھا کہ یہ سردار اختر مینگل کے لیے ہے یہ ڈبے دینے والا آدمی فرار ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ اختر مینگل نے یہ کھانا وصول نہیں کیا جس کے بعد جیل حکام نے اسے ضائع کردیا۔ اختر مینگل کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی جیل میں اسی نوعیت کے واقعات ہوچکے ہیں جس میں گردہ فیل ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر کہتے ہیں کہ طبی موت ہوئی ہے۔ سردار اختر مینگل ملٹری انٹیلی جنس اہلکاروں پر تشدد کے الزام میں کراچی سنٹرل جیل میں قید ہیں۔ | اسی بارے میں احتجاج جاری رہے گا: اختر مینگل28 November, 2006 | پاکستان مینگل تشدد کے الزام میں گرفتار 24 December, 2006 | پاکستان اختر مینگل کو جیل بھیج دیا گیا26 December, 2006 | پاکستان ’کارروائی ہوئی تو جان دیں گے‘08 April, 2007 | پاکستان مینگل کے محافظوں کو عمر قید09 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||