بلوچستان: کئی علاقوں میں ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی نے سابق وزیر اعلٰی بلوچستان سردار اختر مینگل کا باقاعدہ طبی معائنہ نہ کرانے کے خلاف آج خضدار، سوراب، قلات، وڈھ اور دیگر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی۔ دوسری جانب نظربند وکیل علی احمد کرد کی رہائش گاہ کے سامنے وکلاء نے مظاہرہ کیا ہے۔ سردار اختر مینگل کی طبعیت کراچی سنٹرل جیل میں کچھ روز سے خراب ہے اور بقول بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین کے انہیں کراچی کے ایک ہسپتال میں معائنے کے لیے لے جایا گیا ہے جہاں انہیں باقاعدہ طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ سردار اختر مینگل کے ساتھ روا سلوک کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر انتظام احتجاجی تحریک کا اعلان کیا گیا ہے اور اس حوالے سے آج خضدار، قلات، سوراب اور وڈھ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ بی این پی کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی رؤف مینگل نے کہا ہے ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ اس بارے میں سردار عطاءاللہ مینگل سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کا تصور ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’سنا ہے نئے آرمی چیف نے تمام سول اداروں سے فوج کو واپس بلا لیا ہے لیکن شائد ہم بلوچستان کے لوگ انہیں بہت پیارے ہیں اس لیے جب اختر مینگل کو سوموار کے روز ہسپتال لے جایا گیا تو ایم آئی کے اہلکار وہاں پہنچ گئے اور اختر مینگل کو معائنے کے بغیر جیل واپس بھیج دیا گیا۔‘ سردار عطاءاللہ مینگل کے مطابق جب تک صدر پرویز مشرف موجود ہیں بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پریس کلب کے سامنے سردار اختر مینگل کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا گیا۔ ادھر کوئٹہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ، اعجاز جکھرانی اور دیگر سیاستدانوں نے وکیل رہنما علی احمد کرد ایڈووکیٹ سے ملاقات کی۔ علی احمد کرد کے مطابق انہیں جب بھی رہا کیا گیا تو وکلاء تحریک میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے پولیس افسر نے وزارت داخلہ کو لکھا ہے کہ علی احمد کرد کو امن و اماں کی صورتحال کے حوالے سے مزید ایک ماہ کے لیے نظر بند رکھا جائے۔ یاد رہے دیگر وکلا رہنما اعتزاز احسن جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود اور منیر ملک کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ادھر گزشتہ روز کاہان کے قریب سیکیورٹی فورسز کا ایک ٹرک بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا جس میں کم از کم پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ کالعدم تنظیم بلوچ لیبریشن آرمی کے ترجمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے سرباز بلوچ نے اس حملے کی ذمہ واری قبول کی ہے۔ | اسی بارے میں بلوچ تحریک نہیں رکے گی: مینگل22 November, 2007 | پاکستان پی پی پی:سب کی طرف سے بلوچوں سےمعافی 24 February, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کی معافی طلبی پر ردِ عمل 24 February, 2008 | پاکستان معافی مانگنا مثبت ہے: قوم پرست25 February, 2008 | پاکستان ’اختر مینگل کی طبعیت ناساز ہے‘02 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||