BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 August, 2008, 00:43 GMT 05:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان میں طالبان یا غیر ملکی؟

مقامی طالبان ایک قوت بن کر ابھرے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں قبائلی عمائدین ہمیشہ سے یہ کہے رہے ہیں کہ ان علاقوں میں غیر ملکی موجود نہیں ہیں لیکن غیر ملکیوں کی موجودگی ایک حقیقت ہے۔

چھ برس کے طویل عرصہ سے جاری فوجی کاروائیوں کے باوجود یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کتنے غیر ملکی مارے گئے ہیں، کتنے گرفتار ہوئے ہیں اور اس وقت کتنے غیر ملکی جنگجوؤں علاقے میں موجود ہیں۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ ان غیر ملکیوں میں ازبک؛ ترکمان؛ عرب؛ چائنیز اور چیچن شامل ہیں۔

قبائلی علاقوں میں غیر ملکیوں کی موجودگی کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں مقامی طالبان کے نام سے مختلف تنظیموں نے جنم لیا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے خاتمہ کے بعد افغان طالبان اور ان کے غیرملکی ساتھی قبائلی علاقوں میں روپوش ہوگئے تھے۔

پچپن سالہ ابو خباب المصری القاعدہ کے دیگر تین کمانڈروں کے ہمراہ اٹھائیس جولائی کو مارے گئے تھے۔

ابتداء میں پاکستانی فوج نے وزیرستان میں غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی جس میں قبائلی عمائدین بھی فوج کی مدد کررہے تھے۔

پاکستانی فوج کی غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کے ردعمل میں مقامی طالبان نے فوج پر حملے شروع کیے اور قبائلی عمائدین کو چُن چُن کر نشانہ بنایا گیا۔ آخرکار فوجی حکمران مقامی طالبان کے ساتھ امن معاہدے کرنے پر مجبور ہوگئے اور ساتھ ہی قبائلی عمائدین نے ایک طرف فوج کے ساتھ تعاون چھوڑنے کا اعلان کیا اور دوسری طرف وہ علاقے سے بھی نقل مکانی کرگئے۔

گزشتہ چھ سالوں کے دوران کئی بار امن معاہدے طے پائے ہیں اور ٹوٹے بھی ہیں۔ لیکن گزشتہ ایک سال سے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان اور جنوبی وزیرستان میں ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کے ساتھ امن معاہدے تاحال برقرار ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں ملا نذیر کے گروپ کا کنٹرول ہے

مقامی طالبان ایک قوت بن کر سامنے آئے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج غیر ملکیوں کے خلاف اپنا ہدف حاصل کرنے کے بجائے مقامی طالبان کے ساتھ کبھی امن معاہدوں اور کبھی کارروائیوں میں الجھ کر رہ گئی۔

پاکستانی فوج کی غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی صورت میں امریکہ نے خود قبائلی علاقوں میں میزائل حملے شروع کردئیے ۔

اٹھائیس جولائی دو ہزار آٹھ کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے علاقے اعظم ورسک میں ایک میزائل حملے میں سات غیر ملکی عرب مارے گئے تھے۔ ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کے ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی اور کہا کہ میزائل حملے میں ابو خباب المصری؛ ابراھیم المصری سیمت سات افراد ہلاک ہوئے۔ اس میزائل حملے میں ابو خباب کی بیوی اور ان کا ایک بارہ سالہ بیٹا زخمی ہوگئے تھے بعد میں ان کی بیوی زخموں کی تاب نہ لا کر ہسپتال میں دم توڑ گئیں۔ میزائل حملے کے پہلے دن مقامی طالبان کے ذرائع نے کہا تھا کہ حملے میں ابو مصعب عمر المصری ہلاک جبکہ ابو خباب زخمی ہوگئے ہیں۔


القاعدہ کی ایک ویب سائٹ کے بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ پچپن سالہ ابو خباب المصری القاعدہ کے دیگر تین کمانڈروں کے ہمراہ اٹھائیس جولائی کو مارے گئے ہیں۔

امریکی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں دعوی کیاگیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے دست راست اور القاعدہ کے دوسرے بڑے رہنماء ایمن الظواہری اس میزائل حملے میں زخمی ہوگئے ہیں۔ جس میں بیت اللہ محسود کے ڈاکٹروں کے ساتھ رابطوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بات اس لیے درست نہیں ہے کہ وہ علاقہ ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کے کنٹرول میں آتا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے محسود میں سکیورٹی فورسز نے سکاؤٹس فورس لدھا قلعہ کو خالی کرکے وانا منتقل کر دیا ہے۔ جنوبی وزیرستان سکاؤٹس فورس کے ایک صوبیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ لدھا سکاؤٹس قلعہ میں چھ سو نفری موجود تھی۔

صوبیدار کے مطابق اس نفری کے لیے راشن پہنچانا ایک مشکل کام تھا اور کئی بار راستے میں خطرے کے پیش نظر راشن کو ہیلی کاپیٹر سے گرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال بھی اسی لدھا سکاؤٹس قلعہ کے راستے میں تین سو کے قریب نفری کو بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے اغواء کر لیا تھا۔

دوسری جانب اعلی حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کو سہولت پہنچانے کے لیے قلعہ کو خالی کیاگیا ہے تاکہ وہ وہاں ایک سول ہسپتال قائم کیا جائے۔

کچھ نہیں بدلے گا
فوجی کارروائی سے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی
طالبان سے بات چیت
مذاکرات سے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آ رہے
نقل مکانی پر مجبور سواتی لڑکالڑائی میں پھنسےلوگ
تین دنوں میں بارہ شہری ہلاک ہوگئے
سوات کشیدگیسوات کشیدگی
سوات کشیدگی: لوگوں کی نقل مکانی، تصاویر
قیدی نمبر650
’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید ہیں‘
طالبائزیشن کے خلاف مہم کا آغازطالبان سےہوشیار
کراچی میں طالبانئزیشن کے خلاف مہم شروع
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد