طالبان سے ہوشیار رہنے کی مہم شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی کئی دیواریں ان دنوں ایسے پوسٹروں سے بھری ہیں جن میں عوام کو طالبانائزیشن سے ہوشیار رہنے اور اپنی حفاظت خود کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ تاہم دوسری جانب قبائلی علاقوں میں سرگرم تحریک طالبان کا کہنا ہے کہ کراچی ان کے لیے انتہائی اہم شہر ہے۔ اردو اور انگریزی زبان میں لکھے ان پوسٹر میں کٹے ہوئے سروں اور ٹانگوں کی تصاویر بھی ہیں۔ان پوسٹروں پر یہ عبارت تحریر ہے کہ ’ہوشیار، ہوشیار طالبانائزیشن سے ہوشیار‘ اپنی حفاظت کا خود انتظام کریں شہر کو طالبانائزیشن سے بچائیں۔‘ ان پوسٹروں میں اردو میں تحریر پوسٹر پر سندھ بچاؤ تحریک نامی تنظیم کا نام تحریر ہے جو غیر معروف ہے جبکہ انگریزی میں لکھےگئے پوسٹر پر سٹیزن آف کراچی یعنی کراچی کے شہری درج ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے اتوار کی شب ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے بھی کچھ انہی خدشات کا اظہار کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بندوق کے زور پر کراچی میں طالبانائزیشن کی جا رہی ہے اور کراچی کو فاٹا بنانے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔ ’میں اہلیان کراچی غریب اور امیر ہر فرد سے یہ کہتا ہوں کہ طالبانائزیشن کی کلاشنکوف بردار اور ڈنڈہ بردار شریعت سے محفوظ رہنے کے لیے اپنی حفاظت کا خود بندوست کریں۔میں ڈنڈا بردار شریعت اور کلاشنکوف بردار شریعت کراچی میں نفاذ کرنے والوں کو بتا دینا چاہتا ہوں یہ فاٹا نہیں کراچی ہے۔‘ الطاف حسین نے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان کے کراچی کے دورے اور مدارس میں خطاب پر بھی تنقید کی اور اسے ایک سازش قرار دیا۔ دوسری جانب فی الوقت قبائلی علاقوں تک محدود تحریک طالبان پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں طالبان وجود رکھتے ہیں۔ تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ان کی تحریک کے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ ’کراچی ایک کاروباری شہر ہے۔ یہاں بہت سے مدارس، طلبہ اور علماء ہیں۔ دنیا کی آنکھیں اس پر مرکوز ہیں۔ ہندوستان چاہتا ہے کہ وہ کراچی میں مداخلت کرے۔ دیگر دشمن ممالک بھی یہاں مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔ جتنی اس شہر کی اہمیت ہے اتنی ہی یہاں طالبان کی اہمیت ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر طالبان یہاں وجود میں آجائیں یہاں جو فحاشی اور عریانی عروج پر ہے وہ ختم ہوگی اور بیرونی مداخلت کا بھی خاتمہ ہوگا۔ ’یہ کاروباری شہر ہے یہاں امن کی ضرورت ہے اور امن اسلام اور اسلامی نظریے سے ہے۔‘ تحریک طالبان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں ایسا کوئی خطہ یا شہر نہیں جہاں طالبان نہ ہوں کیونکہ یہ عقیدے اور نظریے کا مسئلہ ہے۔ ’طالبان اسی زمین کی پیداوار ہیں کہیں باہر سے نہیں آئے ان کا نظریہ اسلام ہے اور پاکستان کا بنیادی نظریہ بھی اسلام ہے۔ طالبان ہی پاکستان کے اصل وارث ہیں، جو بھی اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کے دشمن ہیں۔‘ کراچی سے ماضی میں بھی طالبان تحریک کا نظریاتی تعلق رہا ہے۔ اس تحریک کے رہنما ملا عمر نے اسی شہر کے مدرسہ بنوریہ سے تعلیم حاصل کی اور یہاں درس وتدریس سے وابستہ رہے۔ افغانستان پر امریکی حملے سے قبل پاکستان حکومت کی جانب سے ملا عمر کی طرف بھیجے گئے علماء کے وفد میں بھی اس شہر کے علماء شامل تھے۔ کراچی میں گزشتہ دنوں پولیو مہم کے دوران محکمہ صحت کی جانب سے یہ شکایت کی گئی تھی کہ شہر میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار میں اضافہ ہو رہا ہے اور خاص طور پر یہ صورتحال ان علاقوں میں در پیش ہے جہاں افغانستان اور فاٹا سے لوگ آکر آباد ہوئے ہیں۔ اس سے قبل تیل بردار ٹرک مالکان اور ٹھیکیداروں کو بھی دھمکی آمیز چٹھیاں موصل ہوچکی ہیں جن میں انہیں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کو تیل کی رسد بند کر دیں بصورتِ دیگر نتائج کے لئے تیار رہیں۔ | اسی بارے میں اسلام آباد میں طالبان کے آثار17 January, 2008 | پاکستان طالبان کی مشترکہ تنظیم کا قیام14 December, 2007 | پاکستان طالبان سے مذاکرات حل اور کیا؟27 July, 2008 | پاکستان مقامی طالبان کی حکومت کو دھمکی04 January, 2008 | پاکستان ’ہم نے طالبان کو محدود کیے رکھا‘16 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||