رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | طالبان سے مذاکرات کی پالیسی کو مغربی ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے |
پاکستان میں فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت ملک میں شدت پسندی اور طالبانئزیشن سے نمٹنے کےلئے اپنی مذاکرات کی پالیسی پر تو عمل پیرا ضرور ہے لیکن طالبان سے جاری بات چیت میں بظاہرکوئی خاص پیش رفت ہوتی نظر نہیں آرہی۔ گزشتہ پانچ ماہ میں حکومت نے وزیرستان سے لیکر سوات تک ہر جگہ طالبان سے مزاکرات کی پالیسی اپنائی رکھی اور مسائل کو طاقت کی بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم تاحال اس پالیسی کے واضح نتائج ظاہر ہونا شروع نہیں ہوئے۔ تقریباً دو ماہ قبل سوات میں طالبان اور سرحد حکومت کے مابین ایک امن معاہدہ طے پایا۔ اگرچہ یہ معاہدہ بدستور قائم ہے تاہم اس پر دونوں جانب سے عمل درامد کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ سوات میں معاہدے کا مقصد ہی وہاں تشدد کا خاتمہ اور امن وامان بحال کرنا تھا۔ لیکن ان دو ماہ کے دوران سوات میں پر تشدد کاروائیوں میں کوئی خاص کمی دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ حالیہ دنوں میں تو وہاں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ امن معاہدے کے بعد سوات میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی ہے لیکن دوسری طرف لڑکیوں کے سکولوں، ہوٹلوں اور دکانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ صرف خودکش حملے بند ہوئے ہیں جبکہ ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکے تو جاری ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق پچھلے ایک ماہ کے دوران سوات میں پچاس سے زائد سکولوں کو نذرآتش یا بم دھماکوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ ان میں اکثریت لڑکیوں  | | | مذاکرات کی پالیسی کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے | کے تعلیمی ادارے بتائے جاتے ہیں۔ اب وہاں حال یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کےلئے تیار نہیں۔ مبصرین تو اب سوات امن معاہدے پر بھی انگلیاں اٹھارہے ہیں کیونکہ بظاہر اس سے کوئی فائدہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ یہ معاہدہ تحریک طالبان پاکستان کے سوات میں سربراہ مولانا فضل اللہ اور ان کے حامیوں سے کیا گیا تھا۔ اس سے سب لوگ واقف ہیں کہ سوات امن معاہدے کی کامیابی کا انحصار تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود سے جاری مزاکرات پر ہے ، باالفاظ دیگر اگر قبائلی علاقوں کی سطح پر طالبان اور حکومت کے مابین جاری بات چیت کامیاب ہوتی تو سوات معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے ، ورنہ ناکامی کی صورت میں اس معاہدے کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ ایک مرتبہ اس طرح ہو بھی چکا ہے، چند دن پہلے بیت اللہ محسود نے حکومت سے ہرقسم کی امن بات چیت معطل کرنے کا اعلان کیاتھا۔ اس اعلان کے ایک دن بعد سوا ت کے طالبان نے بھی اپنے امیر بیت اللہ ہی کے کہنے پر سرحد حکومت سے مزاکرات معطل کئے حالانکہ اس وقت فریقین کے درمیان امن معاہدہ ہوچکا تھا۔ اس کے علاوہ بیت اللہ کے اعلان کا براہ راست طورپر سوات سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا کیونکہ وہ تو مرکزی حکومت سے ناراضگی کا اظہار کررہا تھا۔ بقول ایک مبصر کے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہاں کے طالبان بااختیار نہیں تھے تو پھر صوبائی حکومت نے ان سے معاہدہ کیوں کیا ؟ دوسری طرف اس معاہدے کے روشنی میں توقع کی جارہی تھی کہ اس سے علاقے میں دوبارہ امن قائم ہوگا اور تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوگی لیکن ابھی تک ایسی کوئی تبدیلی ظاہر ہوئی اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے کوئی امکانات نظر اتے ہیں۔ قبائلی علاقوں کی سطح پر طالبان سے شروع کئے گئے مزاکرات کا بھی تاحال کوئی خاص نتیجہ برامد نہیں ہوسکا ہے۔ وزیرستان، باجوڑ اورمہمندایجنسیوں میں بظاہر تو امن ہے لیکن دوسری طرف ان علاقوں میں عسکریت پسند مزید مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔  | | | سوات میں بہت سے لڑکیوں کے سکول کو نشانہ بنایا گیا ہے | مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں تو اب طالبان نے شرعی عدالتیں بھی قائم کردی ہیں جہاں لوگوں کے مسائل حل کرنے سے ان کی حمایت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اب تو پشاور سے ملحق واقع بعض علاقوں میں بھی عام لوگ اپنے مسائل کے حل کےلئے پاکستانی عدالتوں کی بجائے طالبان کے شرعی عدالتوں سے رجوع کررہے ہیں۔ لیکن اس سارے معاملے پر حکومت بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور لگتا ایسا ہے کہ جیسے انہیں کچھ معلوم ہی نہیں۔ کچھ سرکاری ذرائع اس خاموشی کو حکومت کی نئی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وفاقی حکومت کو اتنے سارے چیلنجز درپیش ہیں کہ فاٹا کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ بہرحال بظاہر تو اس خاموشی کا فائدہ طالبان کو مل رہا ہے۔ |