BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 June, 2008, 19:44 GMT 00:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مذاکرات کی حکمتِ عملی دو دھاری تلوار‘

فائل فوٹو
پاکستان میں سیاسی جماعتوں پر مشتمل نومنتخب حکومت نے بالاخر مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کا اختیار چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دے کر بظاہر یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستانی فوج کو مرکزی کردار دیے بغیر نہ ہی یہ جنگ جیتی جاسکتی ہے اور نہ ہی امریکہ ، نیٹو افغانستان کی حمایت۔

پیپلز پارٹی کی سربراہی میں قائم ہونے والی مرکزی حکومت اور عوامی نیشنل پارٹی کی مخلوط صوبائی حکومت نے اپنی سیاست کے ذریعے مبینہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے جنوبی وزیرستان اور سوات میں طالبان کےساتھ مذاکرات بھی کیے اور امن معاہدہ بھی مگر’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘۔

طالبان اور حکومت کی بات چیت کی وجہ سے پورے ملک بالخصوص قبائلی علاقے اور صوبہ سرحد میں کچھ عرصے تک لوگوں کو بم دھماکوں، خودکش حملوں، ٹارگٹ کلنگ سے نجات مل توگئی مگر پھر اچانک مشیر داخلہ رحمان ملک نے میڈیا کے سامنے آ کر اسلاآباد سے خودکش حملہ آوروں کی گرفتاری کا انکشاف کیا۔

سوات میں امن معاہدے کے باوجود طالبان اورسکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں دونوں طرف سے ہلاکتیں ہوئیں اور لڑکیوں کے تین سکولوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا جبکہ جنوبی وزیرستان کےسرحد پر واقع صوبہ سرحد کے علاقے جنڈولہ میں طالبان نے حکومت یافتہ امن کمیٹی کے چوبیس کے قریب ارکان کو اغواء کرنے کے بعد قتل کر دیا۔

 عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے طاقت کی بجائے صرف بات چیت کی ایک ایسی حکمت عملی پر انحصار کیا گیا جو اب حکومت کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہوئی ہے

صوبہ سرحد کی حکومت نے ببانگِ دُہل اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت مبینہ شدت پسندوں کے محاصرے میں ہے اور اعتراف کرتی ہے کہ فوری حفاظتی اقدامات نہ کرنے کی صورت میں شہر کے عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں جانے کا احتمال ہے۔

یہ تو تھی امن مذاکرات کے نتیجے میں ملک میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کی اندرونی تصویر۔ ادھر بین الاقوامی سطح پر امریکہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر نئی حکومت سے بظاہر ناراض نظر آ رہا تھا کہ مہمند ایجنسی میں امریکی بمباری اور پاکستان کے تلخ لہجے سے بھرپور ردعمل نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

برسوں تک پاکستان میں رہنے اور قدرے نرم خو سمجھے جانے والے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے لہجہ میں بھی تناؤ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور انہوں نے بیت اللہ محسود، مولانا فضل اللہ اور مولوی عمر کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی دھمکی دیدی۔

سرحد حکومت پشاور کو شدت پسندوں کے محاصرے میں قرار دے رہی ہے

واقعات کی اس اندرونی اور بین الاقوامی تصویر کو سامنے رکھتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کی جانب سے اعلٰی سول اور فوجی قیادت کے ایک غیر معمولی اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف کو کارروائی کا اختیار دینے سے یہی مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بظاہر مبینہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اپنائی گئی اپنی ہی حکمت عملی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔

پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ان کے دیگر اتحادی جماعتوں کے ہاتھوں میں جب اقتدار کی باگیں نہیں تھیں تو وہ جنرل(ریٹائرڈ) مشرف کی سربراہی میں قائم شوکت عزیز کی حکومت کی طاقت کے استعمال کی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے رہے اور کہتے رہے کہ عسکریت پسندی ایک سیاسی مسئلہ ہےجس کا حل مذاکرات کرنے میں ہی پوشیدہ ہے۔

یوسف رضا گیلانی کی جانب سے اعلٰی سول اور فوجی قیادت کے ایک غیر معمولی اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف کو کارروائی کا اختیار دینے سے یہی مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بظاہر مبینہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اپنائی گئی اپنی ہی حکمت عملی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔

لیکن اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے طاقت کی بجائے صرف بات چیت کی ایک ایسی حکمت عملی پر انحصار کیا گیا جو اب حکومت کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہوئی ہے اور یوں یوسف رضا گیلانی اور حیدر خان ہوتی کی حکومتوں کو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے جنرل (ریٹائرڈ) مشرف کی حکمت عملی پر ہی لوٹنا پڑا۔

پیپلز پارٹی اور اتحادیوں کی سیاسی حکومت نےعسکریت پسندی پر قابو پانے کے حوالے سے دونوں اہم کردار عوام کے منتخب نمائندوں کی بجائے غیر منتخب افراد یا اداروں کو تفویض کر دیے ہیں۔ فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی جبکہ سیاسی کردار صدر کے معتمد خاص اور صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی کو دیدیا گیا۔

اس بات کے سب ہی شاہد ہیں کہ سابقہ حکومت کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال سے کس حد تک دہشتگردی کی کاروائیوں پر قابو پایا گیا اور گورنر ہاؤس کی مصالحانہ کوششیں عسکریت پسندی کے جِن کو واپس بوتل میں بند کرنے میں کتنی کامیاب ہوئیں؟ اگر اس کا جواب نہ میں ہے تو پھر سب ہی کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے کہ نومنتخب سیاسی حکومت پرانی شراب نئی بوتل میں ڈال کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔

مقامی طالبان(فائل فوٹو)شدت پسندی کا ہوّا
خراب صورتحال: ذمہ دار شدت پسند یا کوئی اور؟
کراچی میں حملوں کا منصوبہ ساز(فائل فوٹو)ایک نئی پریشانی
پاکستانی شدت پسندوں کے بدلتے طریقۂ کار
اے این پی کا حامیشدت پسندی کوروکنا
نئی سرحد حکومت کے لیے بڑا چیلنج
اسلام آباد کے اطالوی ریستوران میں بم دھماکہغیر ملکیوں پر حملہ
کیا شدت پسند لائحہ عمل تبدیل کر رہے ہیں؟
سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
 عسکریت پسندوں کی چندہ مہمسوات میں چندہ مہم
سوات میں عسکریت پسندوں کی مالی مدد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد