BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شدت پسند کارروائیوں میں نیا موڑ

اسلام آباد دھماکہ
اسلام آباد میں کافی عرصے کے بعد خصوصی طور پر غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے
اسلام آباد کے اطالوی ریستوران میں بم دھماکہ بظاہر ملک میں شدت پسندوں کی جاری کارروائیوں کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اس تازہ حملے سے محسوس ہوتا ہے کہ شدت پسندوں نے کافی عرصے تک خودکش حملوں پر زور دینے اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے بعد اپنا لائحہ عمل کچھ تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

اسلام آباد سے قبل لاہور میں پہلی مرتبہ بارود سے بھری گاڑی کا استعمال کیا گیا جبکہ اسلام آباد میں کافی عرصے کے بعد خصوصی طور پر غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ برس مارچ میں اسلام آباد میں ایک فائیو سٹار ہوٹل پر بھی خودکش حملے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اسے راستے میں ہی روک لیا گیا جہاں حملہ آور نے اپنے آپ کو اڑا دیا تھا۔

وفاقی دارالحکومت کے انتہائی پرہجوم کاروباری مرکز سپر مارکیٹ کے سامنے رہائشی علاقہ میں قائم اطالوی ریسٹورنٹ میں ہفتہ کی رات ہونے والا دھماکہ اس لحاظ سے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم چار سال قبل اسلام آباد کے سفارتی علاقے میں واقع ایک چرچ میں خودکش حملے میں پانچ ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔ اس حملے میں ایک امریکی خاتون اور اس کی بیٹی ہلاک جبکہ چالیس زخمیوں میں بھی دس امریکی شامل تھے۔

اسلام آباد دھماکہ
اسلام آباد حملہ سفارت کاروں اور دیگر غیرملکیوں کی تشویش میں اضافہ کا سبب بنے گا

اس واقع کے بعد سے اسلام آباد میں مقیم غیرملکیوں نے خصوصاً امریکیوں نے اپنی سکیورٹی کافی سخت کر لی تھی جس کی وجہ سے غیرملکیوں کو نشانہ بنانا مشکل ہوگیا تھا۔

پھر گزشتہ برس جولائی میں یکے بعد دیگرے اسلام آباد میں دو خودکش حملوں نے شہریوں میں خوف و ہراس بڑھا دیا۔ ان میں سے پہلا حملہ معزول چیف جسٹس کی ایف ایٹ میں ایک جلسہ گاہ میں ہوا جبکہ دوسرا آبپارہ مارکیٹ میں۔

ان دو بڑے واقعات کے بعد اسلام آباد میں حالات قدرے پرسکون رہے تاہم جڑواں شہر راولپنڈی میں فوجی اور خفیہ ایجنسیوں پر حملے جاری رہے۔ ان میں آخری حملہ پاکستان فوج کے میڈیکل کور کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل مشتاق بیگ پر ہوا جس میں وہ ہلاک ہوئے۔

اسلام آباد میں پھر پورے ایک سال بعد ایک ہوٹل یا ریستوران کو حملہ کا نشانہ بنانے سے لگتا ہے ایک دائرہ پورا ہوگیا ہے۔ یہ تازہ حملہ سفارت کاروں اور بڑی بڑی کمپنیوں کے دفاتر والے شہر اسلام آباد میں مقیم غیرملکیوں کی تشویش میں اضافہ کا سبب بنے گا۔

درہ آدم خیل دھماکہعینی شاہد نے دیکھا
’ لڑکا آیا اور پھر کچھ ہی لمحوں کے بعد دھماکہ‘
پشاور دھماکہپشاور دھماکہ
امام بارہ گاہ میں مبینہ خود کش حملہ، تصاویر
پشاور دھماکہپشاور بم دھماکہ
کار بم دھماکے میں 18 افراد زخمی ہوئے ہیں
ٹریفک پولیس نشانہ
گوجرانوالہ میں بم دھماکہ، پانچ زخمی
حملہ اور دھماکہ
حب میں دھماکہ، ہنگو میں خودکش حملہ
سیدگئی میں دھماکہدھماکہ یامیزائل حملہ
سیدگئی میں دھماکہ: تصاویر میں
بم دھماکے کی متاثرہ خاتونپشاور بم دھماکہ
بم دھماکے میں کم سے کم سات لوگ ہلاک ہوئے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد