BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 December, 2007, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو ہلاک

پاکستان واپسی کے بعد سے بینظیر کی سکیورٹی پر مسلسل تشویش تھی

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ جمعرات کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ان کے انتخابی جلسے پر حملہ کیا گیا۔ راولپنڈی کے جنرل ہسپتال کے باہر پی پی پی کے رہنما بابر اعوان نے بتایا کہ حملے میں بینظیر بھٹو انتقال کرگئی ہیں۔ حملے کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں جنرل ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن انہیں نہیں بچایا جاسکا۔

وزارت داخلہ نے بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ خودکش حملے میں زخمی ہوئیں یا انہیں گولی مارکر ہلاک کیا گیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت پانچ گولیاں بھی چلی تھیں جن میں سے ایک ان کی گردن میں لگی تھی۔

اس حملے میں پی پی پی کی رہنما شیرں رحمان اور ناہید خان بھی زخمی ہوئی ہیں۔ ہسپتال کے باہر بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے کارکن جمع ہیں اور غم و غصے کا ماحول ہے۔ اس حملے میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک اور متعدد ہوئے ہیں۔

بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری نے کہا ہے کہ وہ دبئ سے پاکستان پہنچ رہے ہیں اور بینظیر کی ہلاکت کی خبر پر اس وقت تک یقین نہیں کرسکتے جب تک وہ خود نہ دیکھ لیں۔

حملے سے قبل انتخابی ریلی سے بینظیر خطاب کرتی ہوئیں
پاکستان کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے افسوس ظاہر کیا ہے اور صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف نے بینظیر بھٹو پر حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ’قوم کے غم‘ میں شامل ہیں۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق بینظیر بھٹو کے سینے اورگلے میں گولیاں لگیں تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان پر فائرنگ کی گئی اور ریلی میں دھماکہ بھی کیا گیا۔ لیکن حالات واضح نہیں ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو صرف زخمی ہیں۔

امریکی حکومت نے بینظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کی شدید مزمت کی ہے۔ واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس حملے سے پاکستان میں مفاہمتی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔ روس کی حکومت نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس حملے سے دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

فرانس نے بینظیر پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ’قابل نفرت فعل‘ ہے۔

بینظیر بھٹو پر کراچی میں اٹھارہ اکتوبر پاکستان واپسی پر ایک استقبالیہ ریلی میں خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک سو چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان واپسی کے بعد سے ان کی سکیورٹی پر مسلسل تشویش پائی جارہی تھی۔

2007ء کیسا رہا
اس سال خود کش حملے معمول بن گئے
افتخار کے بعد بینظیر
وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا
’کارساز‘ تحقیقات
بینظیر’خود کش‘ حملے بھی موٹی فائل میں بند؟
کارساز تحقیقات
حکومت اور پی پی پی کے درمیان ڈیڈلاک
مرتے دم تک ساتھ
’کچھ بھی ہو بینظیر کا ساتھ نہ چھوڑیں گے‘
بینظیر بھٹو اسلام آباد میں سنیچر کو ذرائع ابلاغ سے مخاطب سیاست کی رفوگیری
تجزیہ: ممکنہ مفاہمت کی بےنظیر کی شرط
بھٹو، مشرفمفاہمت کو خطرہ
بینظیر اور جنرل مشرف میں بڑھتی مخاصمت
اسی بارے میں
بینظیر کی سکیورٹی پر تشویش
14 December, 2007 | پاکستان
’خصوصی پولیس فورس نامنظور‘
23 December, 2007 | پاکستان
برطرف ججز کی حمایت سے انکار
13 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد