BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 July, 2008, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو: جرائم کی شرح میں اضافہ

قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں مقامی طالبان کے مختلف تنظیموں کے یکجا ہو جانے کے بعد عسکریت پسندوں نے اب اپنی تمام تر توجہ ہنگو شہر پر مرکوز کر رکھی ہے
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں مبینہ طالبان اور جرائم پیشہ گروہوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور علاقے میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافے سے وہاں بظاہر حکومت کی عملداری ختم ہوکر رہ گئی ہے جبکہ ضلع بھر میں موجود تمام غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر بھی بند ہوگئے ہیں۔

پشاور سے تقریباً ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہنگو شہر کی سرحدیں اورکزئی، کرم اور شمالی وزیرستان کے ایجنسیوں سے ملتی ہیں۔ اس چھوٹے سے شہر میں آج کل شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہے جس میں اغواء برائے تاوان یا قتل کا کوئی نہ کوئی واقعہ پیش نہ آتا ہوں۔

گزشتہ چند ماہ سے ضلع میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں اکثریت تاجر، غیر سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے اہلکار اغواء کیے گئے ہیں۔

مختلف ذرائع سے اکٹھی کیے گئےاعداد وشمار کے مطابق ہنگو میں پچھلے دو ماہ کے دوران تقریباً پچاس افراد کو تاوان کی غرض سے اغواء کیا جا چکا ہے۔ کئی افراد قتل بھی کیے جاچکے ہیں جن میں کچھ جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہیں۔

ہنگو سے ملحق واقع قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں مقامی طالبان نے مختلف تنظیموں کےیکجا کرنے کے بعد عسکریت پسندوں نے اپنی تمام تر توجہ ہنگو شہر پر مرکوز کر رکھی ہے جہاں ان کے اثر رسوخ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ان وارداتوں میں بعض جرائم پیشہ گروہ بھی سرگرم عمل ہیں جنہوں نے مقامی انتظامیہ کے مطابق طالبان کا روپ اپناکر اپنی کاروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جبکہ ان میں بعض غیر مقامی گروہ بھی بتائے جاتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان گروہوں نے آپس میں علاقے تقسیم کر رکھے ہیں جہاں دوسرے گروہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ٹل سے جوزارہ تک تقریباً ساٹھ کلومیٹر کے علاقے میں مختلف مسلح گروہ سرگرم عمل ہیں جنہیں بظاہر حکومت کی طرف سے کسی قسم کے رکاوٹ کا سامنا نہیں۔

شہر میں موجود تمام غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر کو دھمکیاں ملنے کے بعد بند ہوگئے ہیں جبکہ ضلع میں جاری تمام ترقیاتی کام بھی رک گئے ہیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلع بھر میں مختلف منصوبوں میں تقریباً دو ارب روپے کے ترقیاتی کام جاری تھے جو اب سب کے سب بند ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے والے اکثر ملازمین نے نوکریاں چھوڑدی ہیں جبکہ دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے اساتذہ کرام، بنک ملازمین اور دیگر نوکر پیشہ افراد نے بھی علاقے کے غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ڈیوٹیوں پر جانا چھوڑ دیا ہے۔

علاقے کے باشندے بتاتے ہیں کہ شہر میں بظاہر مقامی انتظامیہ کی عمل داری ختم ہو کر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ سخت عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ہنگو کے ایک رہائشی محمد عالم کا کہنا ہے کہ رات کے وقت پولیس اہلکاروں نے گشت کرنا چھوڑ دیا ہے اور لوگوں کو مسلح افراد اور عسکریت پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دن کے وقت شہر میں طالبان اور مسلح افراد بھاری ہتھیاروں سے گاڑیوں میں گشت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جس سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا محال ہوگیا ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ شہر میں قائم تمام سرکاری دفاتر کے ملازمین کو اعلیٰ حکام سے ہدایت ملی ہے کہ وہ دفاتر سے نکلتے وقت سرکاری گاڑیوں میں سفرنہ کریں بلکہ پرائیویٹ گاڑیوں کا استعمال کریں۔

ہنگو میں متعدد بار فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جسکی وجہ سے یہ ایک حساس علاقہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔

ہنگو کے ایک سابق صوبائی وزیر غنی الرحمان کا کہنا ہے کہ شہر میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی ذمہ دار مقامی انتظامیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شہر میں درجنوں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں دن دہاڑے ہوچکی ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب تک نہ تو کسی اغواء کار کوگرفتار کیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔’ انہوں نے کہا کہ علاقے میں حکومت کی رٹ عملاً ختم ہوچکی ہے جبکہ پولیس بھی غیر موثر ہوگئی ہے۔‘

ادھر ہنگو کی مقامی انتظامیہ شہر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بات کرنے کےلیے تیار نہیں ہے۔ اس سلسلے میں جب ہنگو کے ضلعی رابطہ افسر ادریس خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ ’اس وقت شام کا وقت ہے میری ڈیوٹی ختم ہوچکی ہے لہذا اپ کل فون کریں۔‘

اسی بارے میں
ہنگو: بم حملےمیں ایک ہلاک
26 March, 2008 | پاکستان
ہنگو،خیر پور میں کشیدگی
21 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد