ہنگو میں فائرنگ سے چار ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں پولیس کا کہنا ہے کہ بعض نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے اہل تشیع فرقہ سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد ہنگو بازار مکمل طور پر بند ہوگیا ہے جبکہ شہر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ہنگو کے سپرٹینڈنٹ پولیس محمد قریش نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح سوا آٹھ بجے ہنگو کی ایک کاروباری شخصیت انصار علی اپنے بھتیجے، محافظ اور ڈرائیور کے ہمراہ بازار میں کھڑے تھے کہ گاڑی میں سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی جس سے چاروں افراد ہلاک ہوگئے۔ ان کے مطابق حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں تاہم پولیس نے ان کی تلاش کا کام شروع کر دیا ہے۔ پولیس سربراہ کا مزید کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد ہنگو شہر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے فرنٹیئر کانسٹبلری اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق اہل تشیع سے ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے متصل ضلع ہنگو کو بھی فرقہ وارانہ لحاظ سے ایک حساس علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں فرقہ ورانہ قبائلی جنگ بالآخر بند28 March, 2008 | پاکستان کرّم:گرفتاریاں اور عارضی جنگ بندی06 April, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی: فرقہ وارانہ جھڑپیں جاری09 April, 2008 | پاکستان ٹانک:پولیس چوکی پرطالبان کا حملہ08 June, 2008 | پاکستان فرقہ وارانہ جھڑپیں، ہلاکتیں05 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||