BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 April, 2008, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی: فرقہ وارانہ جھڑپیں جاری

سکیورٹی فورسز
سکیورٹی فورسز کو امن جرگہ کی طرف سے کرائی گئی عارضی فائربندی پر عمل درآمد کےلئے تعینات کیا جارہا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں جنگ بندی پرعمل درآمد کےلئے شورش زدہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کردیا گیا ہے۔

دوسری طرف لوئر کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ بدھ کو پانچویں روز بھی جاری ہے جس میں فریقین نے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کئے ہیں۔

کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ ظہیر الااسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ لوئر کرم کے اکثر علاقوں میں فرنٹیر کور کے اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو ہنگو امن جرگہ کی طرف سے فریقین کے مابین کرائی گئی عارضی فائربند پر عمل درآمد کےلئے تعینات کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج شام تک فورسز کی تعیناتی مکمل کرلی جائی گی جس کے بعد حکومت کی طرف سے جنگ بندی پر باقاعدہ عمل درآمد کرایا جائےگا۔

پولیٹکل ایجنٹ نے مزید بتایا کہ دونوں فریقوں کے مشران لڑائی بند کرانے پر مکمل طورپر متفق ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ فائر بندی بھی ہوچکی ہے تاہم بعض اوقات کسی فریق کی طرف سے خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس سے علاقے میں دوبارہ جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

دوسری طرف لوئر کرم کے علاقوں صدہ، بالش خیل، سنگینہ اور خوارکلی میں جھڑپوں کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری ہے جس میں ہلاکتوں کی مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فریقین نے رات کو ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کئے جس سے کئی مکانات میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔ لڑائی میں اب تک پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔

ادھر پشاور میں اقوام اہلسنت و الجماعت کرم ایجنسی نے ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جس میں پارہ چنار سے بے دخل کئے جانے والے درجنوں خاندانوں کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

مظاہرین نے پشاور پریس کلب سے خیبر بازار تک مارچ کیا۔ شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پارہ چنار میں اہل سنت و الجماعت کے تباہ شدہ گھروں اور دوکانوں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے اور متاثرین کو فوری طورپر معاوضہ ادا کیا جائے۔

واضح رہے کہ سنیچر کو فوج کی نگرانی میں پارہ چنار سے پشاور جانے والے مسافر گاڑیوں کے ایک قافلے پر نامعلوم افراد نے بم حملہ کیا تھا جس سے لوئر کرم کے علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری
11 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد