BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 April, 2008, 08:50 GMT 13:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرقہ وارانہ جھڑپیں، ہلاکتیں

کرم ایجنسی(فائل فوٹو)
کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں اب تک 250 افراد مارے گئےہیں
فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقہ کرم ایجنسی میں ہونے والے ایک بم دھماکے اور اس کے بعد شروع ہونے والی فرقہ وارانہ لڑائی میں دو افراد ہلاک اور اٹھارہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سنیچر کی صبح گیارہ بجےفوج کی نگرانی میں مسافر گاڑیوں کا ایک قافلہ صدر مقام پاڑہ چنار سے پشاور جا رہا تھا کہ لوئر کرم ایجنسی کے علاقے خار کلے کے قریب سڑک پر نصب بم ایک دھماکے سے پھٹ گیا۔ ان کے بقول دھماکہ میں ایک شخص ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کےمطابق اس واقعہ کے فوراً بعد خار کلے اور بلیش خیل گاؤں کے رہنے والوں کے درمیان فرقہ وارانہ جھڑپیں شروع ہوگئیں اور فریقین کے درمیان ہونے والی فائرنگ میں مزیدایک شخص ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے۔

لوئر کرم ایجنسی کے اسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ مجیب خان نے رابطہ کرنے پر اس سلسلے میں کچھ بتانے سے انکار کردیا۔تاہم پاڑہ چنار ہسپتال کے ڈاکٹر اصغر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں اب تک دو لاشیں اور اٹھارہ زخمی لائے گئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

دوسری طرف لڑائی رکوانے کے لیے جمعہ کو ضلع ہنگو سے پاڑہ چنار پہنچنے والے شیعہ اور سنی عمائدین پر مشتمل سولہ رکنی جرگے نے فریقین سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ جرگہ کے ایک رکن شاہ حسین خان نے بتایا کہ جرگہ میں شامل سنی رہنماؤں نے پاڑہ چنار میں جرگہ کے شیعہ ممبران سے رابطہ کر کے انہیں مقامی شیعہ رہنماؤں سے لڑائی روکنے کو کہا ہے جبکہ انہوں نے صدہ کے علاقہ میں موجود سنی عمائدین کیساتھ رابطہ قائم کرلیا ہے۔

کرم ایجنسی کا علاقہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے فرقہ وارانہ فسادات کا مرکز رہا ہے اور اس دوران فریقین کے درمیان تین دفعہ ہونے والی لڑائی میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً دو سو پچاس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں جبکہ مقامی افراد مرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین سو سے زیادہ بتا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
کرم: گولہ باری میں چار ہلاک
04 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد