کرم: گولہ باری میں چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرقہ ورانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں لڑائی کے دوران ایک گھر پر مارٹر گولہ لگنے کے نتیجے میں دو بچوں اور ایک خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ لوئر کرم میں امن جرگہ فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی سہ پہر ایک بجے اپر کرم کے پیواڑ علاقے میں واقع ایک مکان پر مارٹر کا گولہ لگا ہے جس میں دو بچوں اور ایک خاتون سمیت چار افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں تاہم سرکاری سطح پر اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ آخری اطلاعات ملنے تک ان علاقوں میں وقفے وقفے سے فریقین کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے جھگڑا جاری تھا۔ لوئر کرم میں جو گزشتہ تیرہ دنوں سے فریقین کے درمیان جھگڑے کا مرکز رہا ہے، حکام نے کہا ہےکہ امن جرگے نے فریقین کو عارضی جنگ بندی پر رضا مند کرا لیا ہے۔ انکے بقول گزشتہ دو دنوں سے ان علاقوں میں لڑائی میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے جبکہ آج دوپہر کے بعد ہلکے ہتھیاروں سے لڑائی بھی تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ایک اہلکار کے مطابق کامیاب مذاکرات کے بعد فریقین سے دو اہم مورچے خوشان گل اور ببری غونڈئی کو خالی کرالیا گیا ہے جہاں پرسکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق عارضی جنگ بندی میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ پاڑہ چنار سے لڑائی کے دوران بے گھر ہونے والے تقریباً دو ہزار افراد کے اپنے گھروں کو واپس لوٹنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔جبکہ باقی معاملات پر سنیچر کے روز دوبارہ مذاکرات کیے جائیں گے۔ دوسری طرف گورنر سکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ تیرہ دنوں کی لڑائی میں مجموعی طور پر باسٹھ افراد ہلاک جبکہ ایک سو تیراسی زخمی ہوگئے ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی میں شیعہ سنی فسادات کے سبب تقریباًایک ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کرکے مشرقی افغانستان کے صوبہ خوست اور پکتیا میں مقامی لوگوں کے یہاں پناہ لی ہے جبکہ اسکےعلاوہ دو ہزار کے قریب لوگوں نے لوئر کرم اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کی ہے۔ واضح رہے کہ کرم ایجنسی میں گزشتہ ایک سال کے دوران اہل تشیع اور اہل سنت مسلک کے ماننے والوں کے درمیان تین مرتبہ شدید لڑائی ہوئی ہے جس میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق تقریباً دو سو پچاس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں جبکہ مقامی افراد مرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین سو سے زیادہ بتا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں کرم ایجنسی میں جھڑپیں جاری01 January, 2008 | پاکستان کُرم: سرکاری املاک پرمیزائیل 30 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی: مزید بارہ افراد ہلاک26 December, 2007 | پاکستان لوئر کُرم میں لڑائی کا دائرہ کار وسیع24 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں حالات پھر کشیدہ 23 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||