BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 January, 2008, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم: گولہ باری میں چار ہلاک

پارہ چنار(فائل فوٹو)
گزشتہ بارہ دنوں کی لڑائی میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں
فرقہ ورانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں لڑائی کے دوران ایک گھر پر مارٹر گولہ لگنے کے نتیجے میں دو بچوں اور ایک خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ لوئر کرم میں امن جرگہ فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی سہ پہر ایک بجے اپر کرم کے پیواڑ علاقے میں واقع ایک مکان پر مارٹر کا گولہ لگا ہے جس میں دو بچوں اور ایک خاتون سمیت چار افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں تاہم سرکاری سطح پر اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

آخری اطلاعات ملنے تک ان علاقوں میں وقفے وقفے سے فریقین کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے جھگڑا جاری تھا۔ لوئر کرم میں جو گزشتہ تیرہ دنوں سے فریقین کے درمیان جھگڑے کا مرکز رہا ہے، حکام نے کہا ہےکہ امن جرگے نے فریقین کو عارضی جنگ بندی پر رضا مند کرا لیا ہے۔

انکے بقول گزشتہ دو دنوں سے ان علاقوں میں لڑائی میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے جبکہ آج دوپہر کے بعد ہلکے ہتھیاروں سے لڑائی بھی تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ایک اہلکار کے مطابق کامیاب مذاکرات کے بعد فریقین سے دو اہم مورچے خوشان گل اور ببری غونڈئی کو خالی کرالیا گیا ہے جہاں پرسکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق عارضی جنگ بندی میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ پاڑہ چنار سے لڑائی کے دوران بے گھر ہونے والے تقریباً دو ہزار افراد کے اپنے گھروں کو واپس لوٹنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔جبکہ باقی معاملات پر سنیچر کے روز دوبارہ مذاکرات کیے جائیں گے۔

دوسری طرف گورنر سکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ تیرہ دنوں کی لڑائی میں مجموعی طور پر باسٹھ افراد ہلاک جبکہ ایک سو تیراسی زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی میں شیعہ سنی فسادات کے سبب تقریباًایک ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کرکے مشرقی افغانستان کے صوبہ خوست اور پکتیا میں مقامی لوگوں کے یہاں پناہ لی ہے جبکہ اسکےعلاوہ دو ہزار کے قریب لوگوں نے لوئر کرم اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کی ہے۔

واضح رہے کہ کرم ایجنسی میں گزشتہ ایک سال کے دوران اہل تشیع اور اہل سنت مسلک کے ماننے والوں کے درمیان تین مرتبہ شدید لڑائی ہوئی ہے جس میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق تقریباً دو سو پچاس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں جبکہ مقامی افراد مرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین سو سے زیادہ بتا رہے ہیں۔

 پاڑہ چنار (فائل فوٹو)’ہر طرف لاشیں ہیں‘
پارہ چنار میں لڑائی کے عینی شاہد نے کیا دیکھا
کرم ایجنسیکرم ایجنسی میں امن
شعیہ اور سنی فریقوں کے مابین تحریری امن معاہدہ
پارہ چنارپارہ چنار کی تباہی
’ایسا لگتا ہے کہ یہاں بڑی جنگ لڑی گئی ہے‘
کرم ایجنسی’مذہب کے نام پر‘
کرم ایجنسی کے فسادات اور امن معاہدے
اسی بارے میں
کرم ایجنسی میں جھڑپیں جاری
01 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد