عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | لڑائی میں دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ |
صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں مقامی انتظامیہ اورکزئی اور کچئی قبائل کے درمیان گزشتہ چھ دنوں سے جاری فرقہ ورانہ جنگ بالآخر عارضی طور پر بند کرانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ جنگ بندی کا یہ فیصلہ جمعہ کی صبح قبائلی علاقہ اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام ہنگو میں کوہاٹ کے ضلعی رابطہ آفسر، اورکزئی ایجنسی کے پولٹیکل ایجنٹ، ضلع ہنگو کے ناظم، مینشتی قوم اور کچئی کے عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ کے دوران کیا گیا۔ جرگہ میں شامل ضلع ہنگو کے ناظم حاجی خان افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ بندی کے فیصلے کے بعد فریقین نے اعلانات کے ذریعہ مورچہ میں موجود مسلح افراد کو ایک دوسرے پر فائرنگ نہ کرنے کو کہا ہے۔ ان کے بقول جرگہ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ گزشتہ کئی دنوں کی لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والوں افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو مورچوں سے اتارنے کے بعد ایک غیر جانبدار جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو مسئلہ کا دیرپا حل تلاش کرے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ چھ دنوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں نہ حکومت اور نہ ہی فریقین کے ساتھ کوئی حتمی اعداد و شمارموجود ہیں کیونکہ بقول ان کے زیادہ تر لاشیں مورچوں میں پڑی ہیں جنہیں اتارنے کے بعد ہی مرنے والوں کی صحیح تعداد سامنے آسکتی ہے۔ حاجی خان افضل نے مزید بتایا کہ جنگ زدہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار موجود ہیں تاہم انہوں نے ان علاقوں کی طرف پیش رفت نہیں کی البتہ جنگ بندی کے بعد انہیں وہاں تعینات کیا جاسکتا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اورکزئی کے مسلح قبائل نے بدھ کی رات کو کچئی کے کئی مورچوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ چھ دن کی مسلسل اور شدید لڑائی سے دونوں جانب بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح جھڑپ میں اورکزئی کے دس سے زائد قبیلے حصہ لے رہے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔ واضح رہے کہ چند دن قبل کچئی کے مقام پر ایک جرگہ پر فائرنگ سے سترہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق مشتی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ اس جھڑپ میں حکومت کو کئی مقدمات میں مطلوب اشتہاری مجرم صورت علی عرف صورتی بھی مارا گیا تھا۔ یاد رہے کہ کچئی کوہاٹ شہر کا ایک پہاڑی گاؤں ہے جو اورکزئی ایجنسی کے سنگم پر واقع ہے۔ اس علاقے میں شیعہ قبائل کی اکثریت بتائی جاتی ہے۔ |