BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 January, 2008, 03:45 GMT 08:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کے خلاف قبائلی لشکر

جرگہ میں بڑی تعداد میں قبائلی موجود تھے
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سنیچر کی رات مقامی عسکریت پسندوں کی طرف سے لیوی کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد ایجنسی کے اٹھارہ قبیلوں نے مقامی طالبان کے خلاف لشکر بنانے کا اعلان کرتے ہوئے ان کو علاقے سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں پیر کی صبح اپر اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام غلجو میں اورکزئی کے اٹھارہ قبیلوں کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں ایک اندازے کے مطابق دس سے پندرہ ہزار مسلح افراد نے شرکت کی۔

ربیعہ خیل قبیلے کے سربراہ ملک ذلمن شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام قبیلوں نے متفقہ طورپر فیصلہ کیا ہے کہ علاقے میں کسی شدت پسند کو پناہ نہیں دی جائےگی اور جس قبیلے نے اس کی خلاف ورزی کی اس سے ایک کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا جبکہ اس کے سو مکانات بھی نذر آتش کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جرگہ نے مختلف قبیلوں کے مابین جاری باہمی دشمنیوں کو وقتی طورپر ختم کرنے کےلئے ’ اسلام زونہ’ بھی طے کیا ہے جس کے مطابق ایجنسی میں آباد قبیلے ایک دوسرے کے خلاف اس وقت تک نہیں لڑیں گے جب تک علاقے سے شدت پسندوں کا صفایا نہیں کیا جاتا۔

واضح رہے کہ سنیچر کی رات آپر اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام غلجو میں مسلح شدت پسندوں نے لیوی کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرکے تین اہلکاروں کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کردیا تھا۔ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق علی خیل، ربعیہ خیل اور ملا خیل قبیلوں سے بتایا جاتا ہے۔

پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس کے علاوہ اتوار کی شام بھی غلجو میں ایک سرکاری ریسٹ ہاؤس کو نامعلوم مسلح افراد نے آگ لگائی تھی۔

ملک ذلمن شاہ کے مطابق جس علاقے میں شدت پسند کارروائی کریں گے وہاں آباد قبائل کا فرض ہوگا کہ حملہ آواروں کے خلاف کارروائی کریں ورنہ جوابی حملہ نہ کرنے کی صورت میں ان قبائل سے بھی جرمانہ وصول کیا جائے گا اور ان کے گھر بھی نذرآتش کئے جائیں گے۔

قبائلی ملک نے مزید بتایا کہ جن قبائل کے علاقوں میں شدت پسندوں نے مراکز بنائے ہوئے ہیں ان سے بھی جرمانے وصول کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں حتمی فیصلہ جمعہ کے جرگہ میں کیا جائے گا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جرگہ میں مذہبی افراد کی تعداد کم رہی۔

واضح رہے کہ پاکستان کے کسی قبائلی علاقے میں پہلی دفعہ قبائل نے اٹھ کر شدت پسندوں کے خلاف لشکر کشی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل وزیرستان میں مقامی قبائل نے غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کرکے ان کو علاقہ بدر کیا تھا۔

ملا نذیر احمدازبک اور ملا نذیر
’فساد گر‘ غیر ملکیوں کیلیے کوئی جگہ نہیں‘
وانا بدامنی اپنی جگہ لیکن
وانا کا بڑا مسئلہ بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے
واناوانا کا مستقبل
طالبان ،حکومتی اہلکار ایک چوکی میں اِکٹھے
سی ڈیز’ایک ضروری اعلان‘
قبائلی علاقے میں پمفلٹ کے ذریعے دھمکی
اسی بارے میں
فوجیوں کی بازیابی میں ناکامی
03 September, 2007 | پاکستان
فوجیوں کی تلاش بے سود
03 September, 2007 | پاکستان
وانا میں این جی او پر حملہ
25 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد