BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 January, 2008, 08:10 GMT 13:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محفوظ راستہ فراہم، قبضہ ختم

بنوں
بنوں پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملحقہ ضلع ہے
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں ایک پرائمری سکول میں ڈھائی سو سے زائد طلبہ اور اساتذہ کو یرغمال بنانے والے افراد نے محفوظ راستہ دیے جانے پر مغویوں کو رہا کر دیا ہے۔

رہا کیے جانے والوں میں سکول کے دو سو ستر طلباء و طالبات اور اساتذہ سامل ہیں۔

اس سے قبل مقامی جرگہ کے کہنے پر پولیس اور فوجی اہلکار عمارت سے پیچھے ہٹ گئے تھے جس کے بعد اغواء کاروں نے محفوظ راستہ دیے جانے پر بچوں کو چھوڑ دیا۔

نامعلوم مسلح افراد نے پیر کی صبح بنوں کے نواح میں واقع ایک پرائمری سکول پر قبضہ کر کے بچوں اور اساتذہ کو یرغمال بنا لیا تھا۔ملزمان کے سکول میں داخل ہونے سے پہلے پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس میں پولیس کے مطابق ایک ملزم ہلاک ہوا۔

 سکول پر قبضہ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب بنوں سے تقریباً سے پندرہ کلومیٹر شمال کی جانب علاقہ ڈومیل میں ایک ڈبل کیبن گاڑی میں سوار چند نامعلوم افراد نے والی زار پرائمری سکول پر اس وقت قبضہ کرلیا جب بنوں پولیس نے ڈومیل کے مقام پر ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔

اس سے قبل بنوں پولیس کے سربراہ دار علی خٹک نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا ہے کہ اغوا کاروں کی تعداد چھ سے سات ہے جو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے مسلح ہیں اور مقامی قبائل کی مدد سے اغواء کاروں سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

دار علی خٹک کے مطابق سکول پر قبضہ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب بنوں سے تقریباً سے پندرہ کلومیٹر شمال کی جانب علاقہ ڈومیل میں ایک ڈبل کیبن گاڑی میں سوار چند نامعلوم افراد نے والی زار پرائمری سکول پر اس وقت قبضہ کرلیا جب بنوں پولیس نے ڈومیل کے مقام پر ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔

 ان ملزمان نے مشران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان بچوں کو اس وقت تک آزاد نہیں کریں گے جب تک کہ انہیں کسی محفوظ مقام تک پہنچنے کا راستہ نہیں دے دیا جاتا۔
عینی شاہد،محمد نواز

پولیس کے مطابق ڈبل کیبن میں سوار نامعلوم ملزمان نے سکول پر قبضہ سے پہلے ضلع کرک سے ایک سرکاری افسر اور ان کے ڈرائیور کو اغواء کر کے لے جا رہے تھے جنہیں پولیس مقابلے کے بعد رہا کروا لیا گیا۔ کرک سے ایک سرکاری افسر نے بی بی سی بتایا کہ اغواء ہونے والوں میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کرک کے انچارج شامل ہیں۔

اس واقعے کے ایک عینی شاہد اول دین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان افراد کا تعلق کسی شدت پسندگروپ سے نہیں بلکہ ان میں سے ایک مفرور ڈاکو ہے۔ایک طالب علم محمد عدنان کے بھائی محمد نواز نے بتایا کہ اس کا چھوٹا بھائی جس کی عمر سات سال ہے اور صبح دس بجے سے یرغمال تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان ملزمان نے مشران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان بچوں کو اس وقت تک آزاد نہیں کریں گے جب تک کہ انہیں کسی محفوظ مقام تک پہنچنے کا راستہ نہیں دے دیا جاتا۔

اسی بارے میں
پشاور صرف چالیس کلومیٹر
26 January, 2008 | پاکستان
قافلے پر حملے، چھ فوجی ہلاک
12 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد