بڑوں کی تلخ کلامی میں دو بچے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں معمولی تلخ کلامی کے بعد سکول جاتے بچوں پر فائرنگ کے نتیجے میں دو بچے ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے حملے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ بنوں پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کو شہر سے کوئی دس کلومیٹر شمالی میں تھانہ بفی خیل کے حدود میں دو قریبی رشتہ داروں محمد جمیل خان اور محمد ریاض کے درمیان کسی معمولی بات پر تلخ کلامی ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔ جس کے بعد محمد ریاض اور ان کے ساتھی محمد جمیل کے سکول جانے والے بچوں کے راستے پر واقع امرود کے باغ میں گھات لگا کر بیٹھ گئے اور جب محمد جمیل کے خاندان کے بچے باغ کے قریب سے گزر رہے تھے تو محمد ریاض اور ان کے ساتھیوں نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں دو بچے ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں ایک بچی سائرہ دوسری کلاس کی طالبہ تھی جب کہ زبیر خان تیسری کلاس کا طالب علم تھا۔ اس کے علاوہ دو بچے عبداللہ اور محمد خلیل شدید زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی بچوں کو بنوں کے سول ہسپتال میں داخل کردیاگیا ہے۔ پولیس تھانہ کے انچارج رخمت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بچوں پر فائرنگ کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے محمد ریاض اور محمد حلیم کو گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد جمیل اور ریاض دونوں قریبی رشتہ دار ہیں اور دونوں کا تعلق بیزان خیل وزیر قبائیل سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے ان دونوں کے بچوں کے درمیان سکول میں بھی لڑائی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق بچوں کی لڑائی میں بڑے بھی کود پڑے ہیں۔ یاد رہے کہ ضلع بنوں کے علاوہ صوبہ سرحد کے دوسرے جنوبی اضلاع اور قبائلی علاقوں میں اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ جس میں معصوم بچے دشمنی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں سندھ کے روایتی قبائلی جھگڑے12 October, 2004 | پاکستان آٹھ زندگیاں قبائلی جھگڑے کی نذر25 July, 2004 | پاکستان روایات میں قید قبائلی06 March, 2004 | پاکستان ’قبائلی علاقے میں کوئی القاعدہ نہیں‘23 February, 2004 | پاکستان قبائلی صحافت کی نیرنگی30 October, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||