’قبائلی علاقے میں کوئی القاعدہ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امیر جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما قاضی حسین احمد نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیاں بند کرے اس سے ملک کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ قاضی حسین احمد نے بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر قومی سلامتی کے معاملات پر قوم کو اعتماد میں لے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے حکومت کو کافی عرصے سے خبردار کر رہی ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں سے بہت خطرناک صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے عناصر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں القاعدہ کا کوئی وجود نہیں اور القاعدہ کے نام پر مقامی لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ان گرفتاریوں اور فوجی کارروائیوں سے علاقے میں اشتعال پھیل رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف سرحد کے پار نیٹو کی افواج علاقے میں مداخلت کے لیے تلی ہوئی ہیں دوسری طرف پاکستان فوج اور نیم فوجی دستے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت پر عوام کی طرف سے شدید دباو ہے لیکن فوج کس کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں۔ جنوبی وزیرستان میں حالیہ فوجی کارروائی کی خبروں اور پاکستانی حکومت کی طرف سے ان خبروں کی تردیدوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہماری آزادی اور خومحتاری بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں امریکی دندناتے پھرتے ہیں اور اپنی مرضی سے کارروائیاں کرتے ہیں لیکن عوام کو اس سے بالکل بے خبر رکھا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||