پاکستان: امریکی توجہ کا نیا مرکز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اندر موجود شدت پسند تنظیموں کی جانب سے خطرے سے فکرمند امریکی حکومت ان دنوں افغانستان، وہاں تعینات اتحادی افواج اور خود امریکہ کے لیے پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی خاطر ایک جامع حِکمت عملی تشکیل دے رہی ہے۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے گزشتہ منگل کو کہا کہ وہ پاکستان سے افغانستان آنے والے مزاحمت کاروں سے نمٹنے کے لیے مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ رابرٹ گیٹس کے بیان سے ایک روز قبل کانگریس میں ایک بِل پیش کیا گیا جس میں پاکستان کو انسانی امداد تین گنا کرنے کی تجویز ہے تاکہ امریکہ اور سویلین حکومت کے تعلقات مضبوط ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کے تعلقات جو اب تک صرف پاکستانی فوج کے ساتھ رہے ہیں ان میں تبدیلی لائی جائے۔ امریکہ کی نئی حِکمت عملی کی وجوہات میں امریکی حکومت کے خیال میں افغان سرحد پر طالبان حامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا اور فاٹا کے طالبان کے ساتھ پاکستانی حکومت کے حالیہ امن سمجھوتے بھی شامل ہیں۔ امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین اڈمیرل مائیکل مولین نے افغانستان اور پاکستان کے دورے سے واپسی پر کہا: ’بات در حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سرحد کے پار ہم غیرملکی جنگجوؤں اور مزاحمت کاروں کو بغیر کسی روک ٹوک کے آتے جاتے دیکھ رہے ہیں۔ اسے روکنا ہوگا۔‘ واشنگٹن میں وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اڈمیرل مولین نے بتایا: ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ خطرہ بڑھتا جارہا ہے، بلکہ ایسی مختلف تنظیموں کا ایک نیٹ ورک بنتا جا رہا ہے جنہوں نے اب تک ساتھ کام نہیں کیا تھا۔‘ اگرچہ ابھی وزارت دفاع نے مزید فوج افغانستان میں تعینات کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے، تاہم رابرٹ گیٹس کا اس بارے میں بیان اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ امریکہ اپنی توجہ عراق سے ہٹاکر افغانستان پر کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں بڑھتی ہوئی مزاحمت سے نمٹا جاسکے۔ امریکہ کو یہ بھی امید ہے کہ آئندہ ہفتے عراق سے پانچ بریگیڈز کی واپسی سے امریکی افواج پر پہلے جیسا دباؤ نہیں رہے گا اور ان کی مختلف مقامات پر تعیناتی کرنے کا فیصلہ آسان ہوجائے گا۔ اڈمیرل مولین نے کہا کہ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے افغانستان میں مزید افواج تعینات کرنے کی تجویز سے یقینا مزاحمت کاروں کے سرحد پار آنا جانا مشکل ہوجائے گا تاہم ’یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ پاکستان پر بھی دباؤ ہو۔‘ گزشتہ ہفتے واشنگٹن کے دورے پر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ پاکستان جتنا ہوسکتا ہے شدت پسندوں سے لڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔لیکن امریکہ ان کے اس بیان سے متفق نہیں دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ نے مزاحمت کاروں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے یکطرفہ کارروائی کرنا شروع کر دیا ہے۔ حال ہی میں افغانستان سے امریکی فوج نے پاکستان میں بمباری بھی کی ہے۔ اس سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی آئی ہے کیونکہ اس حملے میں گیارہ پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔ اس مسئلے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام آباد میں قیادت کا فقدان ہے۔ انتخابات کے پانچ ماہ گزرنے کے باوجود اتحادی حکومت صدر پرویز مشرف کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے الجھنوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ اس سال کے آغاز سے نئی سویلین حکومت قبائل اور شدت پسندوں کے ساتھ امن معاہدے کر رہی ہے، اس امید میں کہ سرحدی علاقوں میں استحکام لایا جاسکے۔ ان معاہدوں کے تحت پاکستانی فوج شدت پسندوں کو جیل سے رہا کررہی ہے اور بعض علاقوں میں تعینات فوجیوں کو ہٹا رہی ہے۔ اس پر افغانستان اور امریکہ ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس طرح کے ماضی کے تجربوں سے تشدد میں اضافہ ہوا تھا۔ ادھر نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ مئی میں سرحد پار حملوں میں پچاس فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ امن معاہدوں کی شرائط پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ معاہدے کافی حد تک خفیہ ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان نے شدت پسندوں کے سرحد پار جاکر حملے کرنے پر کوئی پابندی عائد کی ہے۔ بدھ کے روز پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ یہ کافی اہم ہے کہ پاکستانی حکومت خود پاکستان کے لیے شدت پسندوں سے پیدا ہونے والے خطرات کو سمجھے۔ رابرٹ گیٹس نے کہا کہ یہ کافی اہم ہے کہ سویلین حکومت فاٹا اور صوبہ سرحد میں ان تنظیموں پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ان کی جانب سے پاکستان کے لیے پیدا ہونے والے خطرے کی حقیقت کو پوری طرح سمجھ لے۔ لیکن امریکہ اس بات پر بھی فکرمند ہے کہ شدت پسندوں کا خطرہ بہت دور پھیل سکتا ہے، شایدہ امریکہ تک بھی۔ اڈمیرل مولین کا کہنا تھا: ’مجھے یقین ہے کہ اگر امریکہ پر حملہ ہوا تو یہ القاعدہ اور فاٹا میں موجود شدت پسندوں کی قیادت کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوگا۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے لیے خطرہ یہی ہے جس سے نمٹنا ضروری ہے۔‘ اس سکیورٹی خدشے کے پیش نظر امریکی کانگریس میں منگل کے روز ایک بِل پیش کیا گیا جس کے تحت پاکستان کو ملنے والی غیرفوجی امداد آئندہ پانچ برسوں کے لیے بڑھاکر ساڑھے سات بلین ڈالر کردی جائے گی تاکہ پاکستان میں ہسپتال، اسکول اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوسکے۔ ڈیموکریٹِک سینیٹر جوسیف بِدین نے یہ بِل پیش کرتے ہوئے کہا: ’ایک زمانے تک پاکستان کی جانب ہماری پالیسی تبدیلی کی متوجہ رہی ہے۔‘ اس موقع پر ریپبلیکن سینیٹر رچرڈ لوگار نے کہا: ’یہ قانون سازی اس بات کا اعتراف ہے کہ انسدادی دہشت گردی اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کا کام ساتھ ساتھ ہوگا۔‘ کانگریس میں پیش کیے جانے والے اس بِل جمیں کہا گیا کہ پاکستانی فوج یا پاکستانی حکومت سے تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے پاکستانی عوام سے امریکہ کے تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس بِل میں پاکستانی فوج کو ملنے والی امداد کو اس کی کارکردگی سے مشروط کیا گیا تاہم امریکی صدر کو یہ اختیار ہے کہ وہ اس شرط کو امریکہ کے قومی سلامتی کے مدنظر نظرانداز کرسکتا ہے۔ دونوں سینیٹروں کو امید ہے کہ اس بِل کو اس سال کے اختتام تک امریکی صدر کی منظوری مل جائے گی۔ لیکن اس بات کے بھی خدشات ہیں کہ پاکستان میں عوام کے دل و دماغ جیتنے کی اس پالیسی میں شاید تاخیر ہوگئی ہے اور مستقبل قریب میں فوجی طریقِ کار ہی جاری رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||