سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ ’نو گو ایریا‘ میں ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں سنیچر کو سکیورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والا حملہ ایسی جگہ پیش آیا جو مذہبی عناصر اور جمعیت علماء اسلام (ف) کا مضبوط ترین گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ زرگیری ضلع ہنگو کا آخری سرحدی گاؤں ہے جس کے بعد قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ اس علاقے میں بہت پہلے ہی سے جرائم پیشہ اور مسلح گروہ بھی سرگرم رہے ہیں۔ گاؤں میں پولیس کی عمل داری نہ ہونے کے برابر رہی ہے اس لیے اسے ’ نو گو ایریا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ باہر سے آنے والے لوگوں کو اس علاقے میں جانے کےلیے پولیس کی خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔ دو سال پہلے وہاں مقامی مشران نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک تنظیم بنائی تھی۔ تنظیم نے کئی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں بھی کیں جس میں درجنوں افراد مارے بھی گئے۔ تاہم یہ تنظیم زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکی اور سیاست کی نذر ہوگئی۔ اب اس تنظیم کی جگہ مقامی طالبان نے لے لی ہے۔ زرگیری میں مرکز اسلامیہ علوم کے نام سے ایک بہت بڑا دینی مدرسہ قائم ہے جس میں تقربناً دو ہزار طلباء پڑھتے ہیں۔ اس مدرسے کا انتظام جمعیت علماء اسلام (ف) کے ضلعی رہنما چلا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس مدرسے کو زیادہ تر چندہ خلیجی ممالک سے ملتا ہے۔ زرگیری کے آس پاس کئی چھوٹے بڑے گاؤں واقع ہیں جن میں کاہی، دورڑی، نریاب، دوابہ، کچا پکا اور تورہ اوڑی شامل ہیں۔ ان علاقوں میں بھی مذہبی عناصر کا خاصا غلبہ سمجھا جاتا ہے۔ کاہی کے مقام پر ایک دینی مدرسہ قائم ہے جس کا شمار صوبہ سرحد کے سب سے بڑے دینی مدرسوں میں ہوتا ہے۔ اس مدرسے کے انچارج جمعیت علماء اسلام (ف) کے سابقہ ایم این اے مولانا اخونزادہ محمد صدیق ہیں۔ ہنگو سےصوبائی اسمبلی کے دو حلقوں میں ایک سے جمعیت علماء اسلام کے مفتی سید جنان منتخب ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ہنگو کا مسئلہ باہمی مشاروت اور مذاکرات کے ذریعہ حل کرانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ طاقت اس کا ہرگز حل نہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ بعض ذرائع زرگیری میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پرہونے والے حملے میں ان کے حامیوں کو ملوث قرار دے رہے ہیں تو انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی۔ مفتی سید جنان نے وضاحت کی کہ ’طالبان کا مسئلہ صرف ہنگو یا زرگیری میں نہیں ہے بلکہ اس نے تو پورے ملک کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔‘ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہنگو سے فروری کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک امیدوار پیر حیدر علی شاہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے یہ نشست ہمیشہ سے جمعیت علماء اسلام کے حصے میں آتی رہی ہے۔ | اسی بارے میں ہنگو: 17 سکیورٹی اہلکار ہلاک12 July, 2008 | پاکستان اہلکاروں کی ہلاکت کی دھمکی11 July, 2008 | پاکستان ہنگو: کرفیو نافذ، سرچ آپریشن شروع10 July, 2008 | پاکستان باجوڑ: دو ہلاک، متعدد زخمی11 July, 2008 | پاکستان عسکریت پسندی میں اضافہ، ملِکوں کی پسپائی11 July, 2008 | پاکستان امریکی گولہ باری، آٹھ فوجی زخمی11 July, 2008 | پاکستان ’فاٹا میں پہلے سے زیادہ شدت پسند‘11 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||