BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 July, 2008, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو: 17 سکیورٹی اہلکار ہلاک

شورش زدہ علاقوں میں کارروائی(فائل فوٹو)
طالبان نے انتیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنا رکھا ہے
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگوں میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں مارے جانے والے اہلکاروں کی تعداد اب سترہ بتائی جا رہی ہے۔

صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے سترہ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

یہ واقعہ ضلع ہنگو کے علاقے دو آبہ میں پیش آیا۔ طالبان نے اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ جھڑپ میں بیس اہلکاروں زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری طرف علاقے میں کرفیو بدستور برقرار ہے جبکہ حکام نے تلاشی کے دوران درجنوں مشتبہ افراد کوگرفتار کیا ہے تاہم ان میں سے زیادہ تر کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا ہے۔

ضلع ہنگو کے ناظم حاجی خان افضل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنیچرکی شام پانچ بجے ضلع ہنگو کے دوآبہ سے متصل نریاب کے شنہ وڑئی کے علاقے میں مسلح طالبان نے سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر فائرنگ کی۔

ضلعی ناظم کے بقول سکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ میں مخالف فریق کو بھی جانی نقصان پہنچا ہے۔ حاجی خان افضل کے مطابق واقعہ کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے توپخانے کا استعمال شروع کر دیا ہے جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹر سے بھی فائرنگ کی گئی۔

’کمزور ہوتی عملداری‘
 ہنگو کےتحصیل ٹل کی یونین کو نسل دو آبہ اور آس پاس کے دیہاتوں کی مجموعی آبادی پچیس ہزار سے زائد ہے۔ یہ علاقہ فرقہ ورانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کُرم، اورکزئی ایجنسیوں اور صوبہ سرحد کے ہنگو اور ٹل بازار کے درمیان واقع ہے۔ ان تمام علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے طالبان کی مبینہ سرگرمیوں کے بڑھنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں حکومتی عملداری کمزور ہورہی ہے
حکام

اس سے قبل اسی علاقے میں سنیچر کی صبح ضلع ہنگو کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ارشاد خان کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے فرنٹیئر کور کے ایک افسر کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ان کے بقول جوابی فائرنگ میں مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم اس موقع پر گولیاں لگنے سے تین راہ گیر زخمی ہوگئے۔

ارشاد خان کا مزید کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سنیچر کی صبح دو آبہ میں تلاشی کے دوران پچاس افراد کوگرفتار لیا ہےاور تفتیش کے بعد صرف چار کے علاوہ باقی تمام افراد کو رہا کردیا گیا۔ ان کے مطابق ان چار افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہوں نے چیک پوسٹ پرگاڑی نہیں روکی اور بعد میں سکیورٹی فورسز نے ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے بالاخر گاڑی میں سوار ان چارافراد کو قابو کر لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تین دنوں کی کارروائی کے دوران مجموعی طور پر اٹھائیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن میں پہلے دن حراست میں لیے جانے والے سات مشتبہ طالبان جنگجو بھی شامل ہیں۔

سنیچر کو دوآبہ میں صبح دس سے چار بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی تھا تاہم سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کی وجہ سے بازار اچانک بند ہوگیا اور لوگ واپس اپنے گھروں تک محدود ہوگئے ہیں۔

ہنگوں میں حالات کافی دنوں سے خراب ہیں

ادھر گزشتہ روز سکیورٹی فورسز کے اغواء کیے گئے انتیس اہلکار تاحال طالبان کی تحویل میں ہیں۔ فریقین کے درمیان مصالحت کرانے والا جرگہ نے ناکامی کے بعد سنیچر کو ہنگو میں حکام سے دوبارہ بات چیت کی ۔ جرگے کے سربراہ مفتی سید جانان نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات میں کچھ حد تک پیش رفت ہوگئی تھی مگر طالبان اور سکیورٹی فورسز کی جھڑپ نے صورتحال کو بدل دیا ہے۔

ہنگو سے تقریباً پینتیس کلومیٹر دور واقع دو آبہ میں سات طالبان کی گرفتاری کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے اور طالبان نے کئی گھنٹوں تک پولیس اسٹیشن کا محاصرے کر کے انتیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا تھا۔ حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بٹالین فوج طلب کرلی تھی۔

حکام کے مطابق ضلع ہنگو کےتحصیل ٹل کی یونین کو نسل دو آبہ اور آس پاس کے دیہاتوں کی مجموعی آبادی پچیس ہزار سے زائد ہے۔ یہ علاقہ فرقہ ورانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کُرم، اورکزئی ایجنسیوں اور صوبہ سرحد کے ہنگو اور ٹل بازار کے درمیان واقع ہے۔ ان تمام علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے طالبان کی مبینہ سرگرمیوں کے بڑھنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں حکومتی عملداری کمزور ہورہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد