BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 July, 2008, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہلکاروں کی ہلاکت کی دھمکی

ہنگو
سکیورٹی فورسز نے ہنگو میں تلاشی کے دوران مزید آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے
طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو سےگرفتار کیے گئے ان کے سات ساتھیوں کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ سنیچر سے یرغمال بنائے جانے والےسکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ہلاک کرنےکا سلسلہ شروع کردیں گے۔

دوسری طرف ضلع ہنگو کے علاقے دو آبہ میں کرفیو بدستور برقرار ہے اور حکام نے تلاشی کے دوران مزید آٹھ مشتبہ افراد کی گرفتاری دعویٰ کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ ان کے ساتھیوں کی رہائی اور دو آبہ سے فوج کی جلد سے جلد واپسی نہ ہونے کی صورت میں وہ سنیچر کے روز دو بجے سے ہر روز ایک ایک اہلکار کو قتل کرنا شروع کردیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تحصیل ٹل اور ہنگو کے علاوہ آس پاس کے علاقے میں طالبان اپنی کارروائیاں شروع کرنے کے بارے میں اعلیٰ قیادت کے فیصلے کے منتظر ہیں۔طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ فریقین کے درمیان مصالحت کرانے کے غرض سے علماء اور قبائلی عمائدین پر مشتمل جرگے نے دوبارہ ان کے ساتھ رابطہ قائم نہیں کیا ہے۔

دوسری طرف ضلع ہنگو کے ناظم حاجی خان افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ دو آبہ میں سنیچر کوکرفیو برقرار رہا اور سکیورٹی فورسز نےتلاشی کے دوران مزید آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

ان کے بقول طالبان علاقہ چھوڑ کر نریاب کے پہاڑوں پر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مشران کا جرگہ مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حوالے سے حکومتی حکام کے جواب کے منتظر ہیں۔

صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو سے تقریباً پینتیس کلومیٹر دور واقع دو آبہ میں سات طالبان کی گرفتاری کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے اور طالبان نے کئی گھنٹوں تک پولیس اسٹیشن کا محاصرے کر کے انتیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا تھا۔ حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بٹالین فوج طلب کرلی تھی۔

حکام کے مطابق ضلع ہنگو کےتحصیل ٹل کے یونین کو نسل دو آبہ اور آس پاس کے دیہاتوں کی مجموعی آبادی پچیس ہزار سے زائد ہے۔ یہ علاقہ فرقہ ورانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کُرم، اورکزئی ایجنسیوں اور صوبہ سرحد کے ہنگو اور ٹل بازار کے درمیان واقع ہے۔ ان تمام علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے طالبان کی مبینہ سرگرمیوں کے بڑھنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں روز بروز حکومتی عملداری کمزور ہورہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد