BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو: کرفیو نافذ، سرچ آپریشن شروع

فائل فوٹو
اطلاعات کے مطابق فوج نے دوابہ شہر کی طرف جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا ہے
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں مقامی عسکریت پسندوں کی طرف سے پولیس تھانے کا محاصرہ ختم کرانے کے بعد فوج نے وہاں کرفیو نافذ کرکے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان نے ہنگو میں 29 سکیورٹی اہلکاروں کے اغواء کا دعویٰ کیا ہے۔

علاقے میں کل سے تمام اہم شاہراہیں اور بازار بند ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہنگو میں جاری تشدد کے پرامن حل کےلئے مقامی مشران اور علماء کرام پر مشتمل جرگہ ناکام ہوگیا ہے جس سے علاقے میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔

جرگہ میں شامل اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سنیٹر میاں محمد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے مقامی روایات کی خلاف ورزی کی ہے اور مذاکرات کے دوران علاقے میں فوج طلب کرکے وہاں آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آپریشن فوری طورپر ختم کیا جائے اور فوج کو علاقے سے واپس بلایا جائے۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ فوج نے دوابہ کے قریبی پہاڑوں میں بیس کیمپ بناکر وہاں بھاری توپ خانہ نصب کردیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج نے گیارہ مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار بھی کیا ہے جبکہ طالبان کے دو ٹھکانوں کے نشانے بنائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم سرکاری ذرائع سے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات گئے طالبان کی طرف سے دوابہ تھانے کا محاصرہ ختم کرنے کے بعد فوج نے جمعرات کی صبح دوابہ شہر میں کرفیو نافذ کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجی دستے دوابہ شہر میں داخل ہوگئے ہیں اور وہاں عسکریت پسندوں کے گھروں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم سرکاری ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ فوج نے دوابہ شہر کی طرف جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا ہے اور وہاں عام لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں جاری ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق کل سے مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ مکمل طورپر بند ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوابہ تھانہ کے آس پاس علاقوں سے لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے۔

دریں اثناء ڈی سی ہنگو کے دفتر میں مقامی مشران اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں پر مشتمل جرگہ جاری ہے جس میں مسئلے کے پرامن حل کی کوششیں کی جارہی ہے۔

تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ طالبان نے گزشتہ روز ہنگو میں مختلف کاروائیوں کے دوران 29 اہلکاروں کو حراست میں لیا ہے جن میں ان کے بقول بارہ فوجی، آٹھ ایف سی اور چھ پولیس اہلکاروں کے علاوہ تین دیگر سرکاری ملازمین شامل ہیں۔

انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کے ساتھیوں کو فوری طورپر رہا نہیں کیا گیا تو وہ بہت جلد ہنگو میں اپنی کاروائیاں شروع کردیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ان کے گرفتار ساتھیوں میں چار کا تعلق وزیرستان سے ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے ہنگو میں چھ طالبان عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد جوابی کاورائی کے طورپر طالبان نے دوابہ تھانے کا محاصرہ کرلیا تھا۔

دریں اثنا وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے ایک اہم شدت پسند کمانڈر رفیع اللہ کو گزشتہ روز دوآبہ کے علاقے سے گرفتار کرکے تفتیشی اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر ایجنسی میں کارروائی مکمل ہوچکی ہے تاہم نیم فوجی ملیشیا وہاں سے نہیں ہٹائی جائے گی۔

تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ شدت پسند دوآبہ تھانے کا محاصرہ ختم کرتے ہوئے اپنے ساتھ بڑی تعداد میں سرکاری اہلکار یرغمال بنا کر لے گئے ہیں جن کی درست تعداد معلوم نہیں۔

اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ طالبان کمانڈر رفیع اللہ کے ساتھ ان کے چار دیگر ساتھی بھی حراست میں لیے گئے ہیں۔ ان کی تلاشی پر ان سے دستی بموں اور بندوقوں کے علاقہ پہلی مرتبہ زہریلے انجکشن بھی برآمد ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
ہنگو،خیر پور میں کشیدگی
21 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد