BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 July, 2008, 01:33 GMT 06:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو : تھانے کا محاصرہ ختم

طالبان
مقامی انتظامیہ نے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کےلئے فوج طلب کرلی
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں طالبان نے اپنے چھ ساتھیوں کی رہائی کے لیے دو آبہ تھانے کا محاصرہ بدھ کی رات گئے ختم کر دیا۔

تھانہ دو آبہ کے ایک اہلکار کامران نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو فون پر بتایا کہ تین چار سو کے قریب طالبان جو تھانے کا محاصرہ کیئے ہوئے تھے بدھ کی رات کو وہاں سے چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے یہ محاصرہ بغیر کسی فوجی کارروائی کے ختم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل طالبان اور قبائلی مشیران کے جرگے کے درمیان کئی گھنٹوں تک مذاکرات جاری رہے۔

تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا طالبان کے ان چھ ساتھوں کو حکومت نے رہا کر دیا یا نہیں جن کے لیے طالبان نے تھانے کو محاصرے میں لیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق طالبان کو قبائلی مشیران کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کے ساتھیوں کو جمعرات کو رہا کر دیا جائے گا۔

قبل ازیں حکومت نے صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں چھ طالبان شدت پسندوں کی گرفتاری کے بعد تھانے کے محاصرے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بٹالین فوج روانہ کر دی تھی۔

ہنگو میں چھ طالبان شدت پسندوں کی گرفتاری کے بعد عسکریت پسندوں نے جوابی کارروائی کے طور پر ایک تھانے کو محاصرے میں لے لیا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت کی درخواست پر ہنگو کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بٹالین فوج روانہ کی گئی تھی۔

ہنگو کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی صبح پولیس اور ایف سی اہلکار ضلعی پولیس افسر ادریس خان کی قیادت میں فلیگ مارچ کررہے تھے کہ دوابہ کے مقام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح طالبان کا آمنا سامنا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جبکہ اس دوران پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی اور چھ طالبان جنگجوؤں کو حراست میں لے لیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان کی گرفتاری کے بعد ان کے دوسرے ساتھی بھاری ہتھیاروں سمیت دوابہ تھانے پہنچ گئے اور تھانے کو محاصرے میں لے لیا۔

عوامی نیشنل پارٹی ضلع ہنگو کے جنرل سیکرٹری ملک ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک جرگہ نے مسئلے کے پرامن حل کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھانہ بدستور طالبان جنگجوؤں کے محاصرے میں ہیں جہاں اندر کئی پولیس اور ایف سی اہلکار موجود ہیں۔

ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ طالبان نے مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ پر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جبکہ سڑک پر گاڑیوں کا آمد و رفت بھی بند ہوگئی ہے۔

دریں اثناء اورکزئی ایجنسی میں خود کو تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان ظاہر کرنے والے شخص نے بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کرکے دعویٰ کیا ہے کہ تھانے کے محاصرے کے دوران انہوں نے سات سرکاری اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا ہے جن میں دو پولیس اور دو ایف سی اہلکاروں کے علاوہ تین دیگر سرکاری ملازمین شامل ہیں۔

ترجمان نے دھمکی دی کہ اگر ان کے ساتھیوں کو فوری طورپر رہا نہیں کیا گیا تو ان کی تحویل میں موجود سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے چار ساتھی جن میں انور، رفیع اللہ، نصیر اور وزیر شامل ہیں، پولیس کی حراست میں ہیں۔ گرفتار افراد کا تعلق بیت اللہ گروپ سے بتایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
حکومت سے بات چیت کی اجازت
02 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد