دلاور خان وزیر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان |  |
 | | | دونوں گروپوں کے مشترکہ امیر حافظ گل بہادر جبکہ مفتی ابو ہارون ترجمان ہوں گے |
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ملا نذیرگروپ اور شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے افغانستان میں موجود اتحادیوں کے خلاف ایک ساتھ لڑنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں گروپوں کے مشترکہ امیر حافظ گل بہادر جبکہ مفتی ابو ہارون ترجمان ہوں گے۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے ملا نذیر نے ٹیلفون پر بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو ان کے گروپ کی شورٰی کا شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں گل بہادر گروپ کی شورٰی سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں گروپوں کے تمام کمانڈروں نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ شورٰی کے اراکین نے صلاح مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ دونوں گروپوں کے امیر گل بہادر اور ترجمان مفتی ابو ہارون ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے گروپ کے حوالے سے ہر ایک واقعہ کی تصدیق ان کے ترجمان سے کرنا چائیے۔ نئے ترجمان مفتی ابو ہارون نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اتفاق کا مقصد ’کفر کے خلاف جہاد کو جاری رکھنا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ وہ امیر کے حکم پر افغانستان میں اتحادیوں کے خلاف جہاد کے لیے بھی جائیں گے۔ان کے مطابق اگر پاکستان میں بھی کسی نے ان کے خلاف کاروائی کی تو وہ اپنا دفاع کریں گے۔ صوبہ سرحد میں تحریک طالبان پاکستان کے علاوہ ملا نذیر گروپ اور حافظ گل بہادر گروپ مقامی طالبان کے دو بڑے گروپ ہیں۔ ملانذیر گروپ کے مقامی طالبان نے گزشتہ سال وانا میں غیرملکی ازبکوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کو وانا سے باہر کردیا تھا۔ شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے بھی گزشتہ سال میرانشاہ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک طویل لڑائی کے بعد امن معاہدہ کیا تھا۔اس لڑائی میں سکیورٹی فورسز کے ایک سو سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ |