سوات میں ناکے، لوگ پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی وادی سوات میں امن وامان بحال کرنے کے لیے فوج اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے بڑی تعداد میں بنائی گئی چیک پوسٹیں مقامی لوگوں کے لیے درد سر بنتی جا رہی ہیں۔ مینگورہ شہرسے شمال کی طرف باہر نکلتے ہی فوج اور پولیس کی چیک پوسٹیں نظر آتی ہیں۔ سوات میں مقامی طالبان کے مراکز سمجھے جانے والے علاقوں مٹہ، خوازہ خیلہ، کبل، کوزہ بانڈئی، براہ بانڈئی، نینگولی اور فتح پور میں ہر دو یا تین کلومیٹر کے فاصلے پر سڑک کے کنارے درجنوں چیک پوسٹیں قائم ہیں جہاں ہر گاڑی کو روک کر ان کی تلاشی لی جاتی ہے۔ چیک پوسٹوں کے آس پاس رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئیں ہیں جبکہ اردگرد فوجی جوان ہاتھوں میں جی تھری بندوقیں اور دیگر بھاری اسلحہ لیے تعینات ہیں۔ ان چیک پوسٹوں کو اس طرح قائم کیا گیا ہے کہ اگر ایک طرف سے گاڑیاں گزر رہی ہیں تو مخالف سمیت سے آنے والی گاڑیوں کو انتظار کرنا پڑے ۔ یہ تمام چیک پوسٹیں پولیس تھانوں یا فوج کی طرف سے بنائے گئے عارضی مراکز کے قریب واقع ہیں۔ مینگورہ شہر سے بحرین تک تقریباً پچاس ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر لگ بھک سترہ چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ مینگورہ سے کالام اور دیگر سیاحتی مراکز جانے والے لوگوں کو ان چیک پوسٹوں سے گزر کر تلاشی دینی پڑتی ہے جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا بھی ہے۔
مٹہ کے ایک رہائشی مقبول خان نے بتایا کہ اس میں شک نہیں کہ حکومت نے یہ چیک پوسٹیں لوگوں کے حفاظت کے لیے قائم کیے ہیں لیکن اب تو حالات کافی حد تک بہتر ہوگئے ہیں، اب ان کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ چیک پوسٹیں اب رفتہ رفتہ درد سر بنتی جا رہی ہیں کیونکہ اس گرمی کے موسم میں ان چیک پوسٹوں پر گاڑیوں میں انتظار کرنا ایک مشکل کام ہے۔‘ سڑک کے کنارے بنی ہوئی ان چیک پوسٹوں پر اکثریت میں گاڑیوں کی تلاشی کا کام پولیس اہلکار کرتے ہیں جبکہ چند چیک پوسٹوں پر صرف فوجی جوان نظر آتے ہیں جو لوگوں سے پوچھ گچھ بھی کرتے ہیں۔ ہر چیک پوسٹ پر پولیس اور فوجی اہلکار لوگوں سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں ’ کہاں سے آئے اور کہاں جارہے ہو۔‘ بحرین میں ہینڈی کرافٹ کے ایک دکاندار جاوید خان نے بتایا کہ سوات میں امن معاہدے کے بعد اب حکومت کو ان چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی کر دینی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان چیک پوسٹوں پر تعینات سکیورٹی اہلکار پنجاب اور سندھ سے آنے والے سیاحوں کو تنگ کرتے ہیں اور بعض چیک پوسٹوں پر تو فوجی اہلکار لوگوں کو واپس جانے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔
سوات کے مقامی طالبان کا حکومت کے ساتھ سے جاری امن مذاکرات میں یہ شروع سے مطالبہ رہا ہے کہ ان چیک پوسٹوں کو فوری طورپر ختم کیا جائے۔ سوات میں مقامی جنگجوؤں کے ترجمان حاجی مسلم خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ سوات میں امن معاہدے پر دستخط ہوجانے کے بعد چیک پوسٹوں کی تعداد بتدریج کم کردی جائی گی لیکن فی الحال کسی چیک پوسٹ کو ختم نہیں کیا گیا۔ سوات میں شدت پسندی سے متاثرہ تقریباً تمام علاقوں میں بظاہر تو حکومت کی رٹ بحال ہوتی دکھائی دیتی ہے لیکن حکومت کی طرف سے تاحال ان چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ سوات میں ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں مکمل امن و امان کے قیام تک علاقے میں کسی بھی چیک پوسٹ کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ان چیک پوسٹوں پر تلاشیوں میں نرمی کر دی گئی ہے تاکہ سیاحوں اور دیگر لوگوں کو مشکلات پیش نہ آئیں۔ اہلکار نے بتایا کہ سوات سے جب فوج واپس بلا لی جائی گی تو یہ چیک پوسٹیں خودبخود ختم ہو جائیں گی۔ | اسی بارے میں سوات مذاکرات: تعطل برقرار21 June, 2008 | پاکستان سوات مذاکرات: طالبان کا انکار20 June, 2008 | پاکستان جماعت اسلامی کے رکن سوات میں قتل19 June, 2008 | پاکستان چار برس میں تشدد کے تین سوواقعات18 June, 2008 | پاکستان مالاکنڈ میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر18 June, 2008 | پاکستان سرحد حکومت سے روابط منقطع:طالبان 17 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||