BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات مذاکرات: تعطل برقرار

 فائل فوٹو
طالبان نے حکومت کے ساتھ روابطہ منقطع کرنے کے اعلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے جمعہ کو پشاور میں حکومت کے ساتھ پہلے سے طے شدہ اجلاس میں شرکت نہیں کی
طالبان اور صوبہ سرحد کی حکومت کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل پیدا ہونے کے بعد فریقین کے درمیان ملاقات ہونے کے باوجود کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔البتہ حکومت کا کہنا ہے برف پگھل چکی ہے۔

دوسری طرف طالبان کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کو مذاکراتی عمل کا باقاعدہ حصہ نہ سمجھا جائے بلکہ حکومت کے ساتھ روابط جاری رکھنے کاحتمی فیصلہ ان کی شوری کرے گی۔

صوبہ سرحد کے وزیر جنگلات اور مذاکراتی کمیٹی کے رکن واجد علی خان نے ملاقات کے بعد بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی جانب سے جمعہ کو طے شدہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے بعد صوبائی حکومت نے طالبان کے تحفظات جاننے کے لیے انہیں خصوصی طور پر سوات بھیجا۔

ان کے بقول ملاقات کے دوران انہوں نے طالبان نمائندوں کے تحفظات سنے اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ پشاور واپس جاکر اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کو ان کے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔

ان کے مطابق’ملاقات کا مقصد امن معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے صرف طالبان کے تحفظات اور خدشات کو سننا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ برف پگھل گئی ہے۔‘

اس سلسلے میں جب طالبان کے ترجمان مسلم خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے حکومتی نمائندے سے ملاقات کی تصدیق کی۔

 ملاقات کا مقصد امن معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے صرف طالبان کے تحفظات اور خدشات کو سننا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ برف پگھل گئی ہے
صوبہ سرحد کے وزیر جنگلات اور مذاکراتی کمیٹی کے رکن واجد علی خان

ان کے بقول انہوں نے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا کہ معاہدہ ہوئے تقریباً چار ہفتے گزرچکے ہیں لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سےان کے ساتھیوں کی رہائی، آپریشن کے دوران پہنچنے والے نقصانات کے ازالے، فوج کی واپسی اور چیک پوسٹوں کے خاتمے کے سلسلے میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔

مسلم خان کا مزید کہنا تھا کہ اس ملاقات کو مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کا حصہ نہ سمجھا جائے بلکہ حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے تین دن اب باقی ہیں جس کے بعد طالبان کی قیادت اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرےگی۔

اس سے قبل سوات میں طالبان نے حکومت کے ساتھ روابطہ منقطع کرنے کے اعلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے جمعہ کو پشاور میں حکومت کے ساتھ پہلے سے طے شدہ اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

مذاکراتی کمیٹی کے رکن واجد علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کے روز طالبان اور حکومت کے درمیان اجلاس شیڈول کے مطابق منعقد نہیں ہوسکا ہے کیونکہ طالبان نےہونے والے امن معاہدے پر حکومتی عملدرآمد پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

 صوبائی وزیر کو آگاہ کیا کہ معاہدہ ہوئے تقریباً چار ہفتے گزرچکے ہیں لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سےان کے ساتھیوں کی رہائی، آپریشن کے دوران پہنچنے والے نقصانات کے ازالے، فوج کی واپسی اور چیک پوسٹوں کے خاتمے کے سلسلے میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوسکی ہے
طالبان کے ترجمان مسلم خان

ان کے بقول طالبان کو سوات سے فوج کی واپسی، چیک پوسٹوں کے خاتمے اور بالخصوص اپنے قیدیوں کی عدم رہائی پر تحفظات ہیں تاہم ان کے مطابق ان کو بہت جلد ختم کردیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں واجد علی خان کا کہنا تھا کہ سوات میں امن و امان کی صورتحال کے قیام کے بعد ہی فوج کو بتدریج واپس بلایا جائےگا جبکہ بعض چیک پوسٹوں کو ختم کردیا گیا ہے اور جو موجود ہیں ان پرسکیورٹی فورسز کے اہلکار پہلے کی طرح سختی سے کام نہیں لے رہے ہیں۔

تاہم طالبان قیدیوں کی عدم رہائی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس میں بعض انتظامی اور عدالتی کاروائی کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے لیکن انہیں امید ہے کہ اس کا بھی جلد کوئی نہ کوئی حل نکال لیا جائے گا۔

واجد علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت کی نیت صاف ہے اورچاہتی ہے کہ معاہدہ کامیاب ہو۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلوص کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ معاہدے کے مطابق مولانا فضل اللہ کے مدرسے کو سوات اسلامی یونیورسٹی میں تبدیل کردیا گیا اور اس سلسلے میں بجٹ میں رقم بھی مختص کردی گئی ہے۔

ان کے مطابق یونیورسٹی کے قیام کا ایکٹ بہت جلد منطور ہوجائے گا اور ممتاز اسلامی اسکالر ڈاکٹر محمد فاروق کو یونیورسٹی کا پروجیکٹ ڈائریکٹر نامزد کردیا گیا ہے۔

ان کے بقول یونیورسٹی میں جدید سائینسی تعلیم کے شعبہ جات کے علاوہ شریعہ فیکلٹی قائم کی جائے گی جس میں اسلامی قانون اور اسلام کے متعلق تحقیق و تدریس ہوگی۔

اسی بارے میں
امن معاہدوں کی سیاست
20 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد