امن معاہدوں کی سیاست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا امن معاہدے ہی پاکستان کے قبائلی و صوبہ سرحد کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کا حل ہیں؟ یا یہ معاہدے شدت پسندوں کو سانس لینے اور دیگر خطوں پر اپنی توجہ مبذول کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں؟ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت عام انتخابات میں کامیابی کے بعد سے امن و امان کی خراب صورتحال پر قابو پانے کی سرتوڑ کوشش میں لگی ہے۔ قیام امن کا وعدہ ہی اس کا موقف ہے کہ اس کی عام انتخابات میں کامیابی کا بڑا سبب بنا۔ دیکھتے ہی دیکھتے نئی صوبائی حکومت نے سوات میں شدت پسندوں سے چند ہفتوں کے رابطوں کے بعد پہلا معاہدے بھی کر لیا۔ دوسری جانب مرکزی حکومت نے بھی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ’خاموشی‘ سے امن معاہدے کے بعد جنوبی وزیرستان کے محسود علاقوں میں بھی اسی قسم کا بظاہر کوئی معاہدہ اگر کر نہیں لیا تو اس کے یقیناً قریب ضرور پہنچ چکا ہے۔ شدت پسندوں نے ان معاہدوں کو اپنی شرائط حکومت سے منوانے، اپنی ساتھی رہا کروانے اور معاوضے حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اگر ان مطالبات پر عمل درآمد میں تاخیر ہوتی ہے تو شدت پسند سوات کے طالبان کی طرح حکومت کو ’تڑیاں‘ لگانا شروع کردیتے ہیں۔ حکومت بھی بظاہر وقتی امن کی خاطر ان کی باتیں مان لیتی ہے۔ بعض لوگوں کے خیال میں شدت پسندوں کی شرائط تسلیم کرکے حکومت ایک طرح سے ان کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ معاہدہ تو جیسا تیسا ہوگیا لیکن جیسا کہ ماضی میں بھی دیکھا گیا اصل مسئلہ ان معاہدوں کو پائیدار بنانا بتایا جاتا ہے۔ ایسے امن معاہدوں کے بعد ان علاقوں میں تو قدرے امن بحال ہوا ہے لیکن دوسرے علاقوں میں مشکلات سر اٹھانے لگی ہیں۔ سوات میں امن کے بعد دیکھا یہ جا رہا ہے کہ شدت پسندوں نے اب اپنی توجہ دیر اور مردان کے ساتھ ساتھ خود صوبائی دارالحکومت پشاور کی جانب مبذول کی ہوئی ہے۔ پشاور کے علاوہ کئی اور علاقوں میں بھی شدت پسندی سر اٹھانے لگی ہے۔ لڑکیوں کے سکول اور موسیقی کی دکانیں ان شدت پسندوں کا پہلا ہدف رہے ہیں۔
ان امن معاہدوں سے مقامی تشویش کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح خصوصاً امریکہ اور افغانستان میں بھی پریشانی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں افغانستان میں سرحد پار حملوں میں اضافے کو جواز بنا کر ان معاہدوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن سرحد حکومت کی جانب سے سفیر امن کے طور پر تعینات کیئے جانے والے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ اس تازہ سرحدی تناؤ کی ایک وجہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سیاسی مذاکرات کے سلسلے میں تعطل بھی ہے۔ کابل میں مشترکہ امن جرگے کے بعد سے قیام امن کی کوششیں روکی ہوئی ہیں۔ اس کی ایک وجہ پاکستان میں نئی حکومت کا قیام اور خراب سیاسی حالات بھی بتاتے جاتے ہیں۔ افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ جب مذاکرات رک جاتے ہیں تو محاز آرائی بڑھ جاتی ہے۔ ’آپ نے دیکھا کہ دونوں جانب سے بیانات جاری ہوئے، الزامات عائد کئیے۔ اس کی وجہ میرے نزدیک مذاکرات کے عمل کا رک جانا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے جلد از جلد شروع کیا جائے۔ اور اس کی بہتری شکل کابل جرگہ تھا جیسے دوبار شروع کیا جائے۔‘ امریکہ کے ساتھ بھی تناؤ میں کمی کے لیئے مہمند ایجنسی کے واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی اطلاعات ہیں جس میں گیارہ پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی فوجیوں کا یہ حملہ بھی ان امن معاہدوں پر اس کی تشویش کا مظہر قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن کیا سوات کے بعد دیگر علاقے بھی شدت پسندی کی گرفت میں ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کا کہنا تھا کہ یہ خدشات بےبنیاد ہیں۔ ’میں آپ کو، ساری قوم کو، سارے صوبے کی عوام اور خصوصاً پشاور کے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت بندوبستی علاقوں میں اپنی رٹ قائم رکھے گی۔‘ ابتداء میں وفاقی اور سرحد حکومتوں کے درمیان امن مذاکرات پر کچھ تحفظات نظر آ رہے تھے لیکن گزشتہ روز پشاور میں چند ملاقاتوں کے بعد وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے بھی امن معاہدوں کی پالیسی کی حمایت کر دی ہے۔ لیکن حکومت کو ان امن معاہدوں سے عارضی فائدہ کی بجائے مجموعی اور مستقل فائدہ کا سوچنا چاہیے جس سے عوام کو فائدہ اور کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو۔ | اسی بارے میں سوات مذاکرات: طالبان کا انکار20 June, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی: جنگ بندی میں توسیع09 January, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی: تحریری معاہدہ24 May, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی تصادم، پندرہ ہلاک21 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||