چار برس میں تشدد کے تین سوواقعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت کا کہنا ہے کے گزشتہ چار سالوں کے دوران صوبہ بھر میں ’ دہشت گردی‘ کے تین سو تینتیس واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں مجموعی طور پر چار سو چونتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے پندرہ ہزار پولیس اہلکاروں کی بھرتی کے فیصلے کے علاوہ سالانہ بجٹ میں امن وامان کو برقرار رکھنے کے لیے چھ ارب روپے مختص کیے ہیں جس میں گزشتہ چار سالوں کے دوران سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ سرحد کی حکومت نے دو ہزار سات آٹھ کے لیے جاری کیے جانے والے بجٹ دستاویز میں کہا ہے کہ پورے ملک بالخصوص صوبہ سرحد میں امن و امان کی صورتحال دو ہزار چار میں خراب ہونا شروع ہوئی اور صرف اس ایک سال کے دوران صوبہ بھر میں دہشت گردی کے سینتالیس واقعات رونما ہوئے جن میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حکومت نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان چار سالوں کے دوران حالات اس قدر خراب ہوگئے تھے کہ صرف دو ہزار سات کےستمبر تک انیس خود کش حملوں سمیت دہشت گردی کے دو سو اٹھائیس واقعات رونما ہوئے تھے جس میں دوسو اٹھائیس افراد ہلاک جبکہ سات سو ایک زخمی ہوگئے تھے۔ حکومتی دستاویز کے مطابق صوبہ بھر میں چار سال کے دوران دہشت گردی کے تین سو تنیتیس واقعات پیش آئے ہیں جس میں مجموعی طور چار سو چونتیس افراد جان بحق ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ امن و امان سب سے بڑا چیلنج ہے اس لیے اس نے گزشتہ سال کے مقابلے میں بجٹ میں پولیس کے لیے مختص کی جانے والی رقم میں اٹھائیس فیصد جبکہ محکمہ داخلہ کے بجٹ میں سینتالیس فیصد اضافہ کیا ہے۔ بجٹ دستاویز میں گزشتہ چار سال کے دوران امن امان کے لیے مختص کی جانے والی رقم کوایک جدول میں ظاہر کیا گیا ہے جس کے مطابق ان چار برس کے دوران امن امان کے لیے مختص کی جانے والی رقم میں تقریباً سو فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ سن سو ہزار چار- پانچ میں امن و امان کا بجٹ تین ارب پینتالیس کروڑ سے زائد تھا جبکہ دو ہزار سات- آٹھ میں یہ رقم چھ ارب پچیس کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ صوبہ سرحد کے سیکریٹری داخلہ ٹیپو مہابت خان کا کہنا ہے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پندرہ ہزار مزید پولیس اہلکاروں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں سے ساڑھے سات ہزارکو بھرتی کرکے تربیت کے بعد مختلف پولیس سٹیشنوں میں تعینات کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ کے لیے مزید ساڑھے سات ہزار پولیس اہلکاروں کو بھرتی کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ان کے بقول شورش زدہ ضلع سوات میں پولیس فورس کی بحالی کے لیے انہیں آٹھ سو ملین روپے پر مشتمل ایک پیکیج کی درخواست بھی موصول ہوئی ہے ۔ | اسی بارے میں گھر کے اندر دھماکہ: تین ہلاک30 January, 2008 | پاکستان پشاور:’مزار پر حملہ، دس ہلاک‘03 March, 2008 | پاکستان پشاور، باڑہ میں بم دھماکے، 3 ہلاک24 May, 2008 | پاکستان ایک خاندان کے چھ افراد ہلاک25 May, 2008 | پاکستان پشاور پولیس پر حملہ، چار ہلاک09 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||