BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور، باڑہ میں بم دھماکے، 3 ہلاک
پشاور دھماکہ
پشاور بم دھماکہ سنیچر کی صبح پشاور کے علاقے ناصر باغ میں ہوا
صوبائی دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تھانہ ناصر باغ کے ایس ایچ او بھی شامل ہیں۔

دوسری طرف قبائلی علاقے خیبرایجنسی میں حکام کے مطابق مبینہ مذہبی شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کی ایک گاڑی میں بم دھماکے سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور پولیس کے مطابق بم دھماکہ سنیچر کی صبح پشاور کے علاقے ناصر باغ میں ہوا۔ پشاور کے ایس ایس پی امتیاز شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تھانہ ناصر باغ کے ایس ایچ او اپنی گاڑ ی میں معمول کے گشت پر تھے کہ سخی پل کے قریب سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم پھٹنے سے گاڑی میں سوار دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تھانے ناصر باغ کے ایس ایچ او خائستہ خان اور ان کا ڈرائیور شامل ہیں۔ دھماکے میں گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ اس حملے میں کون لوگ ملوث ہوسکتے ہیں۔ تاہم ان کے کہنا تھا کہ یہ ان لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی دہشت گردی کے کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ایس ایس پی نے کسی تنظیم کا نام نہیں لیا۔

پشاور دھماکہ
ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ دھماکے میں کون لوگ ملوث تھے

زخمیوں کو خیبر ٹیچنگ ہپستال منتقل کردیا گیا ہے۔ واقعہ کے فوری بعد اعلی پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور سارے علاقے میں گھیرے میں لے لیا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں نے بھی جائے وقوعہ سے بم کے نمونے حاصل کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے اس دھماکے کے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ سرحد میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پشاور میں یہ اپنی نوعیت کا پہلہ واقعہ ہے۔ اس سے پہلے ایم ایم اے کے حکومت کے اخری دو سالوں میں پشاور اور سرحد کے دیگر علاقوں میں خودکش اور دیگر حملوں میں کافی حد تک اضافہ ہوا تھا۔

خیبر ایجنسی میں دھماکہ

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبرایجنسی میں حکام کے مطابق مبینہ مذہبی شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کی ایک گاڑی میں بم دھماکے سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

خیبر ایجنسی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہفتے کے روز لشکر اسلام کے رضاکاروں کی ایک گاڑی سڑک پر جارہی تھی کہ باڑہ کے علاقے میں ڈوگرہ ہسپتال کے قریب بم پھٹنے سے گاڑی میں سوار ایک رضاکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بم گاڑی کے اندر کسی خفیہ مقام پر نصب کیا گیا تھا جس سےگاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ خیبرایجنسی میں گزشتہ چند دنوں کے دوران یہ تسیرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل ایک اور مبینہ شدت پسند تنظیم انصارالااسلام کے اہم کمانڈر کو لشکر اسلام کے حامیوں نے سرعام گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔ تین دن قبل

خیبرایجنسی سے منتخب رکن قومی اسمبلی پیرزادہ نورالحق قادری کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں ان کے بھائی، بھتیجا، چچا اور بہنوئی ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد