BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مردان خود کش حملہ، تیرہ ہلاک، متعدد زخمی

دھماکے کے بعد کا منظر
دھماکہ پی آر سی کے بیکری کے سامنے ہوا، خودکش حملہ آوار بیکری میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا
صوبہ سرحد کے دوسرے بڑے شہر مردان میں ایک مبینہ خودکش حملے میں چار فوجی اہلکاروں سمیت تیرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے واقع کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور نے اتوار کی شام مرادن کینٹ میں واقع پنجاب ریجمنٹل سنٹر کےگیٹ کے سامنے واقع بیکری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے جب حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے خود کو زور دار دھماکہ سے اڑا دیا۔

پاکستان فوج کے ترجمان نے چار فوجی اہلکاروں ہلاکت کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق اس کے علاوہ دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

جائے وقوعہ پر موجود مقامی صحافی ریاض حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک مبینہ خودکش حملہ آوار پی آر سی کے بیکری میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہاں ڈیوٹی پر موجود فوجی اہلکاروں نے اسے روکنے کی کوشش کی جس کے ساتھ ہی وہاں زوردار دھماکہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے سارے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

خود کو تحریک طالبان درہ آدم خیل کے ترجمان کہنے والے محمد نامی شخص نے ہمارے نامہ نگار عبدالحی کاکڑ سے فون پر بات کرتے مردان میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

محمد نامی شخص کا کہنا تھا کہ مردان میں ہونے والا خود کش حملہ تھا اور یہ درہ آدم خیل میں طالبان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے رد عمل میں کیا گیا ہے۔

محمد نامی شخص نے مزید کہا کہ اتوار کی صبح درہ آدم خیل کے شینی گاؤں میں سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر حملہ کیا گیا جس میں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ تاہم سرکاری سطح پر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ مردان سرحد کے وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی کا آبائی علاقہ ہے۔ یہ دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان امن بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور حال ہی میں دونوں طرف قیدیوں کا تبادلہ بھی ہو ا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد