BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 April, 2008, 08:05 GMT 13:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مردان میں بم دھماکہ، تین ہلاک

مردان(فائل فوٹو)
زخمیوں میں سے اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے
پاکستان کے صوبہ سرحد کے شہر مردان میں حکام کے مطابق ایک کار بم دھماکے میں اے ایس ائی سمیت تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ادھر مقامی طالبان نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ حال ہی میں مردان پولیس کے ہاتھوں مقامی طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا۔

مردان سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح چھ بجے کے قریب مردان شہر میں سٹی تھانہ کے قریب پیش آیا۔سٹی تھانہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تھانے کے قریب ایک نامعلوم کار کھڑی کی گئی تھی جس میں اچانک زوردار دھماکہ ہوا جس سے تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اے ایس آئی فرخ سید اور دو راہگیر شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی بتائی جاتی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے تھانے کا ایک کمرہ مکمل طورپر منہدم ہوگیاہے جس سے کئی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔زخمیوں کو مردان اور پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں دو پولیس اہلکاروں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پاکستان میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں قائم مقامی عسکریت پسندوں کی تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے مردان میں پولیس سٹیشن پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی ان کے ایک کمانڈر کی ہلاکت کے بدلے میں کی گئی ہے۔ تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

 کمانڈر کو ایسے وقت قتل کیا گیا جب حکومت اور عسکریت پسندوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ جاری تھا۔حکومت نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی اسی وجہ سے تنظیم نے بھی اپنے ساتھی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے یہ کارروائی کی ہے۔
مولوی عمر

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران دعوٰی کیا کہ کچھ روز قبل مردان میں پولیس نے ان کے ایک کمانڈر حافظ سعید الحق کو اس وقت ہلاک کیا تھا جب وہ شادی کی ایک تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے کمانڈر کو ایسے وقت قتل کیا گیا جب حکومت اور عسکریت پسندوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ جاری تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی اسی وجہ سے تنظیم نے بھی اپنے ساتھی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے یہ کارروائی کی ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ سرحد کے دوسرے بڑے شہر مردان میں اس سے پہلے بھی کئی بار پولیس تھانوں اور اہلکاروں پر متعدد مرتبہ حملے ہوچکے ہیں جس میں کچھ واقعات کی ذمہ داری مقامی طالبان قبول بھی کرچکے ہیں۔ تاہم حالیہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نےایک روز قبل اپنے ساتھیوں کو پاکستان میں تمام حملے بند کرنے کے ہدایت کی تھی۔

خود کو مردان کے مقامی طالبان کا ترجمان ظاہر کرنے والے عبداللہ نامی ایک شخص نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ انہیں بیت اللہ محسود کی طرف سے حکم ملا ہے کہ جنگ بندی کے دوران اگر کوئی ان پر حملہ کرتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کمانڈر کو حکومت کے ساتھ فائر بندی ہونے کے بعد قتل کیا گیا تھا لہذٰا انہوں نے اپنی ساتھی کا بدلہ لینے کے لیے یہ کارروائی کی ہے۔

اسی بارے میں
مہمند کارروائی، ایک ہلاک
09 March, 2008 | پاکستان
ہنگو: بم حملےمیں ایک ہلاک
26 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد