BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 March, 2008, 15:56 GMT 20:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میں دو مبینہ شدت پسند گرفتار

نیوی وار کالج دھماکہ
نیوی وار کالج پر ہونے والے دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے تھے
لاہور پولیس نے جی پی او چوک اور نیوی وار کالج کے خود کش حملوں میں ملوث دو مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارود اور خودکش حملوں میں استعمال ہونے والا دیگر سامان برآمد کیاگیا۔

ملزموں کی گرفتاری کا اعلان لاہور کے کیپٹل سٹی پولیس چیف ملک اقبال نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے دونوں ملزموں، محمد شہزاد اور ندیم حسین کا تعلق ایک کالعدم مذہبی تنظیم جہاد اسلامی سے ہے جس کا مرکز جنوبی وزیرستان میں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ان خود کش حملہ آوروں کے ساتھی ہیں جنہوں نے گزشتہ تین ماہ کے دوران الگ الگ دھماکوں میں تین درجن کے قریب سرکاری اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔ پولیس حکام نے اسے خودکش دھماکوں کے ایک ایسے سلسلے کی کڑی قرار دیا تھا جس کا نشانہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو بنایا جا رہا ہے۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ جی پی او چوک اور نیوی وار کالج کے دھماکوں میں ہلاک ہونے والے تینوں خودکش حملہ آور غیر ملکی تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کا القاعدہ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

پولیس نے صحافیوں کو لاہور کے علاقے وحدت کالونی میں ملزم شہزاد کے کرائے کے اس مکان کا دورہ کرایا جہاں وہ اور اس کے ساتھی دھماکوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق دوسرے ملزم ندیم حسین نے ایک پبلک کال آفس کھول رکھا تھا اور اس کی آڑ میں خودکش حملہ آوروں کی معاونت کرتا تھا، بلکہ حملہ میں استعمال ہونے والا بارود بھی اپنے گھر رکھتا تھا۔

پولیس کے مطابق انہوں نے ملزموں کے قبضے سے بارود بھری پچیس بوریاں، کیمکلز، ڈیٹونیٹر، خودکش جیکٹیں اور دھماکوں میں استعمال ہونے والے دیگر آلات برآمد کیے ہیں۔

سٹی پولیس چیف نے کہا کہ ملزموں نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ انہوں نے لاہور میں مزید دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ پولیس ان کے ’ماسٹر مائینڈ‘ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

’جان محفوظ نہیں‘
شہر میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
اندر کا زخم
یہ سب شدت پسندوں کو نہ جانے کیسے پتہ ہوتا ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد