’عراق اور افغانستان سے بھی بد تر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں منگل کے روز مال روڈ کے قریب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے دفتر اور ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ایک گھر کے اندر ہونے والے بم دھماکوں کے بعد لاہور کے شہریوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اور لوگوں کو ڈر ہے کہ کسی وقت کہیں بھی بم دھماکہ ہوسکتا ہے۔ بم دھماکے کے بعد مال روڈ سے ملحقہ علاقے میں دکاندار اپنی دکانیں بند کر کے اپنے گھروں کو چلے گئے اور والدین خوف کے باعث اپنے بچوں کو سکولوں سے جلدی لانے کے لئے دوڑ پڑے۔ ایک ٹیلر ماسٹر محمد سلیم کا کہنا ہے کہ لاہور میں ہونے والے بم دھماکوں کے باعث وہ بہت خوف زدہ ہیں کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی شہری مر رہے ہیں اور حکومت اس سلسلے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر نظر آ رہی ہے۔ لاہور کے ایک اور شہری رانا قاسم کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت سے لے کر اب تک اُن کی سانس پھولی ہوئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ لاہور میں نیول وار کالج اور حالیہ بم دھماکوں کے بعد اس طرح کے حالات بن چکے ہیں کہ اُنہیں بِھیڑ والی جگہ پر جانے سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ماڈل ٹاون میں ہونے والا بم دھماکہ ایک گھر میں ہوا ہے جس کے بعد علاقے کے رہائشیوں میں ایک اور خوف نے جنم لیا ہے کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ رہائشی علاقے میں موجود ایک گھر پر خود کش حملہ کیا گیا ہے۔ دھماکے سے کچھ دیر پہلے ماڈل ٹاون مارکیٹ میں شاپنگ کے لئے آنے والی ایک خاتون نبیلہ وحید کے بات کرتے ہوئے ہونٹ کانپ رہے تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ وہ گھر سے خود گاڑی چلا کر آئی تھیں لیکن اب خوف کی وجہ سے وہ اپنی گاڑی چلانے سے قاصر ہیں اور اُن کے خاوند اُنہیں لینے کے لئے یہاں آ رہے ہیں۔ ایک طالب علم خالد علی کا کہنا ہےکہ لاہور میں پہلے ہونے والے دھماکوں کی وجہ سےکافی دنوں سے خوف کی فضا قائم تھی اور حالیہ حملوں کے بعد شہریوں کے اندر بے یقینی کی صورت حال میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ اُن کے بقول یہ لال مسجد کے واقعے اور وزیرستان میں حکومت کی غلط پالیسیوں کا ردعمل ہو سکتا ہے۔
مال روڈ پر واقعہ ایک دکان کے مالک سعید بخش کا کہنا تھا کہ لوگ مکمل طور پر مایوس ہو چکے ہیں کیونکہ پہلے تو صرف روٹی روزی کے مسائل تھے اور اب جان بھی محفوظ نہیں رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ ٹی وی پر دیکھا کرتے تھے کہ افغانستان اور عراق میں خود کش حملے ہو رہے ہیں لیکن اب پاکستان کے حالات عراق اور افغانستان سے بھی بد تر ہوچکے ہیں۔ بم دھماکوں کے کچھ گھنٹے بعد ایک سڑک پر اپنی سائیکل کے ہینڈل کو مظبوطی سے پکڑے ایک عام شہری انعام الحق رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے دھماکے کے وقت سے لے کر اب تک اُن کی آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہوا ہے اور اُن کے سر میں درد ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس بم دھماکے میں ہماری جو بہنیں بیوہ ہوئی ہیں اور جو بچے یتیم ہوئے اُن کا کیا قصور تھا۔ | اسی بارے میں لاہور دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا11 March, 2008 | پاکستان لاہور میں دھماکے، اٹھارہ ہلاک، متعدد زخمی11 March, 2008 | پاکستان این آئی ایچ: بم افواہ، خوف و ہراس11 March, 2008 | پاکستان لاہور دھماکے، 30 ہلاک، 160 زخمی11 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||