BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 March, 2008, 04:45 GMT 09:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میں دھماکے، اٹھارہ ہلاک، متعدد زخمی

ایف آئی اے کی عمارت کے قریب کی عمارتیں بھی تباہ ہوئی ہیں
لاہور میں مال روڈ کے نزدیک واقع وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے دفتر اور ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں دھماکے ہوئے ہیں جن میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں میں کم سے کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن تا حال سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ مختلف ہسپتالوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے کم سے کم ایک سو ستر افراد کو ان ہسپتالوں میں لایاگیا ہے۔

زخمیوں میں سکول کے بچے بھی بتائے جا رہے ہیں۔

دھماکے بعد قریب کے سکولوں کی چھٹی کرادی گئی اور بچوں کو لینے کے لیے والدین وہاں پہنچنے لگے۔

دھماکوں کے بعد کئی افراد نے مال روڈ پر اتجاجی جلوس نکالا۔

لاہور کی مصروف شاہراہ مال روڈ کے قریب ایف آئی اے کے دفتر میں دھماکہ صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ہوا۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس دفتر میں دو دھماکے ہوئے۔ حکام کا خیال ہے کہ چونکہ ایف آئی کے دفتر میں ہونے والے دھماکے میں بہت زیادہ دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا ہے لہذا ممکن ہے کہ یہ خود کش حملہ نہ ہو۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر میاں منظور نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ منگل کی صبح ایف آئی کے دفتر میں چار مارچ کو نیول وار کالج میں ہونے والے دھماکے کی تفتیش ہو رہی تھی اور فوجی تفتیشی ادارے کے اہلکار ایف آئی اے کے دفتر میں موجود تھے۔

عینی شاہدین نے جو بتایا
ایف آئی اے کے ایک اہلکار کیشئیر علی احمد کا کہنا ہے کہ ’میں بلڈنگ کے تہہ خانے میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا جب ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی ہم زمین پرگرگئے اور بلڈنگ کا ملبہ گرنا شروع ہو گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ زندہ ہوں یامرگیا ہوں تاہم جونہی میرے حواس بحال ہوئے تو میں نےلڑکھڑاتے قدموں سے باہر کا راستہ ڈھونڈنا شروع کردیا جس کے بعد ایک روشندان ڈھونڈنے میں کامیاب ہوا اوروہاں سے باہر کود گیا،۔

علی احمد نے مزیر بتایا کہ عام طور پر اس بلڈنگ میں ڈھائی سو لوگ کام کرتے ہیں اور اس وقت چھٹے فلور پر قیدی بھی موجود تھے۔

ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم کاری ساز جاوید ڈینیل کے مطابق وہ ایف آئی اے کے سامنے ان کا دفتر ہے اور میں موجود تھے پہلا دھماکہ نو بج کر تیرہ منٹ پر ہوا جس کے بعد ان کو کوئی ہوش نہیں رہا جس میں وہ خود بھی معمولی زخمی ہو گئے اور اس وقت کسی کو کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے اور اس کے تقریباً دس منٹ کے بعد دوسرا دھماکہ ہوا جس کے بعد ان کو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا جبکہ ان کے دفتر کو بھی تقصان پہنچا ۔

ان کے مطابق دھماکہ کے بعد قریبی سکول اور ملازمین کی رہائش گاہ کو بھی نقصان پہنچا ہے

دس منٹ کے بعد ریسکیو ٹیمیں نے پہنچ کر امدادی کاروائیاں شروع کر دی۔

دریں اثنا لاہور میں دھماکوں کے بعد ملحقہ علاقوں کے رہائشی مال روڈ پر نکل آئے اورملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر احتجاج کیا۔اور مطالبہ کیا ہے کہ پرویز مشرف اس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں اس لیے وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔

ماڈل ٹاؤن دھماکہ
دوسرا دھماکہ ماڈل ٹاؤن کے ایف بلاک میں بلاول ہاؤس کےقریب ایڈورٹائیزنگ سے وابستہ ایک دفتر کے قریب ہوا۔ یہ معروف وکیل اعجاز بٹالوی کے بیٹے کے ایڈ ایجنسی بتائی جا رہی ہے۔

ماڈل ٹاؤن کا دھماکہ بلاول ہاؤس کے علاوہ لاہور کے ناظم میاں عامر محمود کی رہائش گاہ کے قریب ہوا۔ اس دھماکہ میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ کئی کلو میٹر دور تک ان کی آوازیں سنی گئی اور درجنوں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

چار مارچ کو لاہور ہی میں اپر مال پر واقع پاک بحریہ کے نیول وار کالج میں خود کش دھماکے میں ایک حملہ آور سمیت کم از کم سات افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
سوات بم دھماکہ، تیرہ ہلاک
22 February, 2008 | پاکستان
خود کش حملہ: سرجن جنرل ہلاک
25 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد