BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 March, 2008, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خودکش حملے: پاکستان سرفہرست

راولپنڈی خود کش حملہ (فائل فوٹو)
راولپنڈی میں ہونے والا ایک خود کش حملہ
سنہ دو ہزار آٹھ کے پہلے تین ماہ میں پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے جہاں خودکش حملوں کے واقعات ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں پاکستان کے علاوہ عراق اور افغانستان شامل ہیں۔

پاکستان میں رواں سال میں اب تک اٹھارہ خودکش حملے ہو چکے ہیں جن میں دو سو پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے مقابلے میں وہ دونوں ممالک یعنی عراق اور افغانستان صورتحال جنگ کی سی ہے، پاکستان سے کم خودکش حملے ہوئے ہیں۔

عراق میں رواں سال کے دوران تیرہ خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں دو سو چوہتر افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ افغانستان میں اس سال کی پہلی سہ ماہی میں تین خودکش حملے ہوئے جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پندرہ ہے۔

سنہ دو ہزار سات کے دوران خودکش حملوں اور ان میں ہلاک ہونے والوں کے اعتبار سے ان تین ممالک میں عراق پہلے نمبر پر تھا جہاں ایک سو پچاس سے زائد خودکش حملے ہوئے۔

رواں سال میں عراق کے ایک خودکش حملے میں اوسطً اکیس افراد ہلاک ہوئے۔ عراق میں سب سے مہلک حملہ دو فروری کو ہوا جس میں دو خودکش بمباروں نے ننانوے لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ اس کے علاوہ تین دیگر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس سے زائد تھی۔

راولپنڈی خود کش حملہ (فائل فوٹو)
سیکیورٹی اہلکار راولپنڈی میں خود کش حملے کا نشانہ بننے والی منی بس کا جائزہ لے رہے ہیں

اس کے مقابلے میں پاکستان میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اوسط چودہ افراد کی ہے۔ لیکن پاکستان میں چار خودکش حملے ایسے ہوئے ہیں جن میں تیس سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ان حملوں میں سولہ فروری کا پاراچنار کا حملہ جس میں سینتالیس افراد ہلاک ہوئے، یکم مارچ کو اڑتیس افراد سوات میں، دو مارچ کو بیالیس افراد باجوڑ میں اور گیارہ مارچ کو لاہور میں دو خودکش حملوں میں تیس افراد ہلاک ہوئے۔

سنہ دو ہزار سات میں خودکش حملوں کی تعداد کے حوالے سے دوسرے نمبر پر افغانستان تھا جہاں ایک سو سے زائد حملے جبکہ پاکستان میں چھپن ہوئے۔ تاہم ان حملوں میں ہلاکتوں کے اعتبار سے پچھلے سال پاکستان دوسرے نمبر پر تھا کیونکہ پاکستان میں ساڑھے چھ سو زائد ہلاکتیں ہوئیں جبکہ افغانستان میں دو سو پچیس۔

مبصرین کے مطابق عراق کے مقابلے میں پاکستان میں کیے گئے خودکش حملے زیادہ مہلک ہیں کیونکہ عراق میں حملہ آور آسان ہدف کے لیے جاتا ہے اور ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ تباہی اور ہلاکتیں کرنا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں خودکش حملہ آور زیادہ تر سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار سات میں بھی ساڑھے چھ سو ہلاکتوں میں سے پینسٹھ فیصد ہلاکتیں سیکیورٹی اہلکاروں کی ہوئیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اسی طرح رواں سال میں ہونے والے خودکش حملوں میں بھی سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہی ہدف بنایا گیا ہے۔

لاہور خود کش حملہ (فائل فوٹو)
لاہور میں خود کش حملہ جس کا نشانہ بننے والوں میں پولیس اہلکار زیادہ تھے

تاہم ان کے لائحہ عمل میں فرق یہ آیا ہے انہوں برسر پیکار فورس، جیسے کہ سوات اور وزیرستان میں فوجی اور پولیس اہلکار ہیں، کے ساتھ ساتھ لڑائی میں حصہ نہ لینے والی سیکیورٹی شاخوں کو بھی ہدف بنایا ہے۔ جیسے کہ چار فروری کو آرمی میڈیکل کور کو نشانہ بنایا گیا اور پھر پچیس فروری کو آرمی کے سرجن جنرل کو نشانہ بنایا گیا۔

پچھلے سال عروج پر رہنے والی اس خونریزی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کچھ مغربی ممالک نے پاکستان میں نومبر کو لگنے والی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اپنے شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے اور پاکستان میں موجود اپنے باشندوں کو محتاط رہنے کی تاکید کی ہے۔ اور یہ ٹریول ایڈوائزری ابھی بھی اتنی ہی لاگو ہے جتنی کہ نومبر دو ہزار سات میں تھی۔

ان ممالک میں کینیڈا، برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک شامل ہیں۔ پاکستان کا سفر نہ کرنے کی وجوہات میں تین نومبر کو ایمرجنسی کا نفاذ، سوات کی موجودہ صورتحال اور خودکش حملے شامل ہیں۔

لاہور خود کش حملہ (فائل فوٹو)
لاہور میں ایک خود کش حملے کا نشانہ بننے والا ایک شہری

دوسری طرف فروری دو ہزار آٹھ میں کیے گئے گیلپ پول کے مطابق پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے جن کے بارے میں امریکی عوام ناپسندیدگی کی رکھتے ہیں۔ اکاون فیصد امریکیوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کافی حد تک ناپسندیدہ ہے جبکہ عراق کے بارے میں چوالیس فیصد اور افغانستان کے بارے میں سینتالیس فیصد امریکیوں کی یہی رائے ہے۔

آئندہ حکومت کے لیے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو قابو کرنا سب سے بڑا اور دشوار گزار چیلنج ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان حملوں کے پیچھے عناصر نہ صرف اپنے حملوں میں بے باک ہو رہے ہیں بلکہ نئی تکنیکیں بھی آزما رہے ہیں جیسے کہ لاہور میں واقع ایف آئی اے کے دفتر پر خودکش کار بم حملہ تھا۔

بم حملہانیس خود کش حملے
چھ ماہ، انیس حملے، ایک سو چھیاسی ہلاکتیں
بم حملہکم از کم 79 ہلاک
پاکستان: دو ہفتوں کے دوران آٹھ خود کش حملے
’جو دفاع نہ کر سکے‘
اکثر مرنے والے محکمۂ دفاع کے ملازم تھے
حملہ آور کون تھا؟
پشاور بم حملہ آور کا شناخت نہیں ہو سکی
حب بم دھماکہحب ہلاکتیں
’بم دھماکہ خود کش حملہ ہوسکتا ہے‘ پولیس
میں نےدیکھا کہ۔۔۔
’حملہ آور شیرپاؤ کی جانب بڑھ رہا تھا‘
خود کش حملہچار ماہ، آٹھ حملے
پاکستان میں اس سال کا آٹھواں خود کش حملہ
اسی بارے میں
پنڈی خودکش حملے، 25ہلاک
04 September, 2007 | پاکستان
سوات: دو حملوں میں تین ہلاک
31 August, 2007 | پاکستان
خودکش حملہ: 24 فوجی ہلاک
14 July, 2007 | پاکستان
خودکش حملہ،4 فوجی ہلاک
22 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد