لاہور دھماکہ،ہلاک شُدگان کی تدفین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں منگل کو شہر کی تاریخ کے دو بدترین خود کش کار بم حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ اور تدفین کی گئی۔ لاہور کی پولیس لائنز میں ان چھبیس افراد کی اجتماعی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جو گزشتہ روز لاہور میں ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ لاہور میں ایف آئی اے کی عمارت اور ماڈل ٹاؤن میں ایک نجی اشتہاری کمپنی کے دفتر کے احاطے میں دو زور دار الگ الگ کار بم دھماکوں میں دو خودکش حملہ آوروں سمیت اٹھائیس افراد ہلاک ہوئے ۔ لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئی تھیں، بیشتر کی تدفین بھی عمل میں آ چکی ہے۔لاہور سے باہر رہنے والوں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں میں بھجوائی گئی ہیں۔ جن انسانی اعضاء کے بارے میں شبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ خود کش حملہ آوروں کے ہیں انہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے کل ہی بھجوا دیا گیا تھا۔پولیس افسران اور تفتیشی ادارے رپورٹ کے منتظر ہیں۔ ایف آئی اے کی عمارت میں نصب خفیہ کیمرے کی ریکارڈنگ نے یہ واضح کردیا ہے کہ حملہ آور ایک سفید رنگ کی پک اپ گاڑی میں بارود بھر کر لایا تھا اور ایف آئی اے کے گیٹ پر کھڑے چوکیدار کو روندتا ہوا اندر آیا۔ خفیہ کیمرے کی یہ فلم لاہور کے نجی ٹی وی چینلز پر چلا دی گئی ہے اور اس سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ خود کش حملہ آور عین اس وقت داخل ہوا جب سیکورٹی اہلکارووں نے ایک موٹر سائیکل سوار کے لیے گیٹ کھولا اور پھر اسے فوری بند کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے گفتگو کرنے لگے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے گاڑی کے ایسے پرزے قبضے میں لیے ہیں جس سے اس کی چیسز اورانجن نمبروں کی شناخت ہوئی ہے۔ پولیس افسروں کا کہنا ہے کہ اس سے تفتیش آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ پولیس گاڑی کے مالک کو تلاش کر رہی ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کےذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اس خفیہ ایجنسی اجزا بھی اکٹھے کیے گئے ہیں اور گاڑیوں کی شناخت کے بعد دونوں کی آپس میں تعلق کو تلاش کیا جائے گا۔ ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اس خفیہ ایجنسی کے پوشیدہ اڈے یا سیف ہاؤس پر کیاگیاتھا لیکن حملہ آور کو اس تک پہنچنے میں ناکامی ہوئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس پوشیدہ اڈے میں بھی ماضی میں ہونے والے بم دھماکوں کی تفتیش کی جا رہی تھی ایسی ہی تفیتیش کا اڈہ ایف آئی اے کی عمارت میں بھی تھا۔ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر ملک اقبال نے کہا ہے کہ دھماکوں کے بارےمیں جو بھی تفتیش پہلے سے چل رہی تھی منگل کے دھماکے سے اس پر فرق پڑا ہے تاہم اب تفیتیش زیادہ تیزی سے آگے بڑھائی جائے گی۔ پولیس نے بم کے اجزاء معائنے کے لیے کیمیکل جانچ کے ادارے کو بھجوائے ہیں اور اس کی رپورٹ سے اندازہ لگایا جائےگا کہ بارود کس ساخت کا ہے اور اس کے بنانے والوں نے یہ ٹیکنالوجی کہاں سے حاصل کی ہے۔ لاہور میں یہ تیسرا خود کش حملہ تھا اس سے پہلے جنوری میں پیدل خود کش حملہ آور نے لاہور ہائی کورٹ کے باہر بیس کے قریب پولیس اہلکار ہلاک کیے تھے۔ گزشتہ ہفتے موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور نے نیوی وار کالج پر حملہ کیا تھا جبکہ کل ہونے والا تیسراحملہ کار یا گاڑی بم دھماکہ ہے۔ پولیس اور تفتیشی ادارے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگلا حملہ کس نوعیت کا ہوسکتا ہے اس کے لیے حفاظتی تدابیر شروع کر دی گئی ہیں۔ لاہور سمیت پنجاب بھر کے تھانوں کے مین گیٹ بند کر دیے گئے ہیں،اہم سرکاری دفاتروں پرسیکورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں جس سے متعلقہ عام شہریوں کی تکلیف میں اضافہ ہوا ہے۔ گورنر پنجاب خالد مقبول نے غائبانہ نماز جنازہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خود کش حملوں کو غیر انسانی اور غیر اسلامی فعل قرار دیا اور کہا کہ کسی سیاسی یا کسی بھی دوسری وجہ سے ایسی بحث میں نہ پڑا جائے جس سے یہ تاثر ملے کہ یہ فعل کسی بھی طرح سے اسلامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’دہشتگردی کا خطرہ ایک بڑا خطرہ ہے اور اس کا جال پورے ملک میں پھیلاہے۔‘ گورنر نے کہا کہ ’یہ چند افراد نہیں بلکہ ایک سوچ ہے جو پورے معاشرے کو تشدد کی گرفت میں رکھنا چاہتی ہے۔‘ انہوں نے صوبے میں متشدد کارروائیوں کے انسداد کے عزم کا اظہار کیا۔ | اسی بارے میں لاہور دھماکوں پر وزارت داخلے کی بریفنگ11 March, 2008 | پاکستان لاہور دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا11 March, 2008 | پاکستان لاہور دھماکے، 30 ہلاک، 160 زخمی11 March, 2008 | پاکستان شدت پسندوں کو سب کچھ پہلے کیسے پتہ ہوتا ہے ؟11 March, 2008 | پاکستان ’وہی آئین ہے جو دو نومبر کو تھا‘11 March, 2008 | پاکستان سوات بم دھماکوں میں چار ہلاک12 March, 2008 | پاکستان گڑھی خدا بخش میں تدفین 12 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||