BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 May, 2008, 07:56 GMT 12:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مردان:حملے کے بعد سکیورٹی سخت

مردان
دھماکہ پنجاب رجیمنٹ سینٹر یعنی پی آر سی کے بیکری کے سامنے ہوا
صوبہ سرحد کے شہر مردان میں گزشتہ روز ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے تیرہ افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

دوسری طرف مردان کی مقامی انتظامیہ نے کل کے واقعہ کے بعد شہر میں سکیورٹی مزید سخت کردی ہے اور تمام اہم علاقوں میں فوج اور پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔

مردان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ شام کینٹ کے علاقے میں ہونے والے مبینہ خودکش حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے تیرہ افراد کی نماز جنازہ پیر کی صبح شہر کے مختلف مقامات کمیٹی باغ ، بادام خان کلی ، عید گاہ روڈ اور حمزہ کوٹ مردن میں ادا کیے گئے جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

مردان کے مقامی صحافی ریاض حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے پانچ فوجی اہلکارو کی نماز جنازہ پی آر سی میں پڑھائی گئی جس کے بعد ان لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں۔ فوجی اہلکاروں میں چار کا تعلق پنچاب سے جبکہ ایک بلوچستان سے ہیں اور تمام سپاہی رینک کے اہلکار بتائے جاتے ہیں۔

 خودکش حملے میں ہلاک ہونے والےفوجی اہلکاروں میں چار کا تعلق پنچاب سے جبکہ ایک بلوچستان سے ہیں اور تمام سپاہی رینک کے اہلکار بتائے جاتے ہیں

گزشتہ روز کے واقعہ کے بعد مردان میں پولیس اور فوج اہلکاروں کو بھاری تعداد میں تعینات کردیا گیا ہے۔

مردان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پنجاب ریجمنٹ سینٹر کے تمام مارکیٹوں اور چوکیوں میں سکیورٹی سخت کردی ہے جبکہ فوجی چھاونی کے تمام راستوں پر بھی اضافی دستوں کو تعینات کردیا گیا ہے۔

 اس واقعہ کی ذمہ داری درہ آدم خیل میں خود کو مقامی طالبان کے ترجمان ظاہر کرنے والے محمد نامی ایک شخص نے بی بی سی کو فون کر کے قبول کرلی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ حملہ درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے طالبان کمانڈروں کے گھروں کو مسمار کرنے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز مردان میں پنجاب ریجمنٹ سینٹر کے ایک بیکری میں ہونے والے مبینہ خودکش دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں پانچ فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔

اس واقعہ کی ذمہ داری درہ آدم خیل میں خود کو مقامی طالبان کے ترجمان ظاہر کرنے والے محمد نامی ایک شخص نے بی بی سی کو فون کر کے قبول کرلی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ حملہ درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے طالبان کمانڈروں کے گھروں کو مسمار کرنے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس دھماکے سے تین گھنٹے قبل تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو فون ک رکے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر سکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل میں مقامی طالبان کے خلاف جاری کاروائیاں بند نہ کی تو ان کی حکومت کے ساتھ جاری امن مذاکرات متاثر ہوسکتے ہے۔

یہ دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب بیت اللہ محسود کی قیادت میں قائم تحریک طالبان پاکستان اور حکومت کے درمیان امن بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور حال ہی میں دونوں نے قیدیوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مردان میں مقامی طالبان کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو متعدد بار ریموٹ کنٹرول اور دیگر بم دھماکوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

اسی بارے میں
درۂ آدم خیل، نیا محاذ
18 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد