BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 May, 2008, 22:13 GMT 03:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈمہ ڈولہ:کوئی کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں

ڈمہ ڈولاکے قریب مولوی فقیر کا گھر
ڈمہ ڈولہ گاؤں پر پہلے حملے کا نشانہ مولوی فقیر کا گھر تھا تاہم عام لوگ مارے گئے
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کی دو تحصیلوں ماموند اور سالارزئی میں بظاہر مقامی عسکریت پسندوں کا کنٹرول نظر آتا ہے اور ان علاقوں میں حکومتی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔

ماموند تحصیل میں مقامی لوگ عسکریت پسندوں کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے کتراتے ہیں اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ طالبان سے خوف زدہ ہوں۔

ڈمہ ڈولہ گاؤں پر امریکی میزائل حملے کے رپورٹنگ کےلیےجب ہم پشاور سے باجوڑ ایجنسی کے لیے روانہ ہوئے تو میرے ہمراہ پشاور میں کام کرنے والے نجی انگلش ٹی وی چینل کے ایک رپورٹر اور کمیرہ مین بھی تھے۔

چھوٹا سا گاؤں
 ڈمہ ڈولہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کی آبادی چند ہزار افراد پر مشتمل ہوگی۔ یہ گاؤں ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے جہاں سے پاک افغان سرحد کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔
ناواگئی چیک پوسٹ پہنچے تو سکیورٹی اہلکاورں نے یہ کہہ کر روک لیا کہ انتظامیہ نے غیر مقامی صحافیوں کے باجوڑ ایجنسی داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ اس دوران وہاں پشاور کے کچھ اور صحافی بھی پہنچ گئے تھے۔ ہم نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی منت سماجت کی لیکن وہ نہیں مانے۔ ہم واپس نواگئی بازار آگئے جہاں سے ہم دو صحافی ایک پبلک گاڑی میں سوار ہو کر باجوڑ ایجنسی کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن ایک بار پھر نواگئی چیک پوسٹ پر ایف سی کےاہلکاروں نے ہمیں پہچان لیا اور پھر واپس پشاور کی طرف بھیج دیا۔

ڈمہ ڈولا سے پاک افغان سرحد کا منظر
تیسری بار ہم دو صحافیوں ایک مقامی قبائلی کے توسط سے ڈمہ ڈولہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد ہم نے واقعہ کے بارے میں مقامی لوگوں کے رائے لینی چاہی لیکن کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہاں سینکڑوں کے تعداد میں قبائلی اور عسکریت پسند موجود تھے۔ لوگ میزائل حملے کی ذمہ داری امریکہ پر تو عائد کرتے رہے لیکن کوئی کھُل کر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسا ان کو بات کرنے سے منع کیا گیا ہو۔

باجوڑ ایجنسی کی دو تحصیلوں ماموند اور سالارزئی میں بظاہر مقامی شدت پسند اتنے مضبوط دیکھائی دیتے ہیں کہ ان کی مرضی کے خلاف وہاں کوئی کام نہیں ہوسکتا ہے۔

تیسرا حملہ
 ڈمہ ڈولہ گاؤں پر یہ تیسرا حملہ تھا۔ اس سے پہلے دو ہزار چھ میں پہلا حملہ کیا گیا تھا جس میں کچھ گھر نشانہ بنے تھے۔ اس حملے کا نشانہ مولوی فقیر کا گھر تھا تاہم نشانہ خطا گیا اور عام لوگ مارے گئے۔ مولوی فقیر پر حکومت پاکستان کی طرف سے شروع سے الزام لگتا رہا ہے کہ وہ غیر ملکیوں کو پناہ دیتے رہے ہیں
کچھ روز قبل سالارزئی تحصیل میں مقامی طالبان نے پاک افغان سرحد جانے والے فرنٹیر کور کے ایک قافلے کو یرغمال بنا کر ان سے اسلحہ اور گولہ بارود چھین لیا تھا۔ طالبان کا مؤقف تھا کہ سکیورٹی فورسز بغیر اجازت کے ان علاقے سے گزر رہی تھیں۔

ڈمہ ڈولہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کی آبادی چند ہزار افراد پر مشتمل ہوگی۔ یہ گاؤں ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے جہاں سے پاک افغان سرحد کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ جس وقت امریکی طیارے نےگاؤں کو نشانہ بنایا اس کے فوری بعد مقامی طالبان نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا اور کسی کو جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت نہیں تھی لہذا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہاں کوئی غیر ملکی موجود تھا یا نہیں ۔

جائے وقوعہ کی تصویریں لینے کے بعد ہم نے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر سے ملنا چاہا جو ہمیں ڈمہ ڈولہ گاؤں ہی میں ایک مسجد میں آرام کرتے ہوئے ملے۔

مولوی عمر سے تفصیلی بات چیت کے بعد ہم نے ان سے باجوڑ ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کے امیر مولوی فقیر سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر وہ راضی ہوگئے اور ہمیں اپنی ڈبل کیبن گاڑی میں بٹھا کر مولوی فقیر کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ مولوی فقیر کا گھر ڈمہ ڈولہ سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

مولوی فقیر کا گھر
 مولوی فقیر کا گھر مٹی سے بنا ہوا ہے۔ گھر کے ساتھ ایک کمرے پر مشتمل ایک حجرہ قائم ہے جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا برآمدہ بھی بنا ہوا ہے۔گھر کے باہر کوئی سکیورٹی یا اور کوئی ایسے غیر معمولی انتظامات نظر نہیں آئے جس سے محسوس ہو کہ یہ کسی اہم طالبان کمانڈر کا گھر ہے
گاڑی میں مولوی عمر کے ساتھ مسلح طالبان بھی موجود تھے۔ ہمیں ڈرائیور کے پیچھے والی سیٹ پر بٹھایا گیا جبکہ مولوی عمر خود فرنٹ سیٹ میں براجمان ہوئے۔ ہم ایک پہاڑی اور سنسان راستے پر روانہ ہوئے۔ گاڑی میں طالبان جنگجوؤں سے گپ شپ ہورہی تھی ساتھ میں مجھے یہ خوف مسلسل کھائی جارہی تھی کہ کوئی جاسوس طیارہ ہمیں نشانہ نہ بنائے کیونکہ ہم ان عسکریت پسندوں کے درمیان تھے جو تحریک کی مرکزی قیادت تصور کی جاتی ہے۔

میرے ساتھی صحافی سید عرفان اشرف شیشے کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں دوران سفر انہیں بار بار اشارہ کرتا رہا کہ کہیں فضا میں طیارے پرواز تو نہیں کر رہے۔ خیر خدا خدا کر کے ہم مولوی فقیرکے گھر خیر یت سے پہنچ گئے لیکن مولوی صاحب گھر میں موجود نہیں تھے۔

مولوی فقیر کا گھر مٹی سے بنا ہوا ہے۔ گھر کے ساتھ ایک کمرے پر مشتمل ایک حجرہ قائم ہے جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا برآمدہ بھی بنا ہوا ہے۔گھر کے باہر کوئی سکیورٹی یا اور کوئی ایسے غیر معمولی انتظامات نظر نہیں آئے جس سے محسوس ہو کہ یہ کسی اہم طالبان کمانڈر کا گھر ہے۔

ڈمہ ڈولہ گاؤں پر یہ تیسرا حملہ تھا۔ اس سے پہلے دو ہزار چھ میں پہلا حملہ کیا گیا تھا جس میں کچھ گھر نشانہ بنے تھے۔ اس حملے کا نشانہ مولوی فقیر کا گھر تھا تاہم نشانہ خطا گیا اور عام لوگ مارے گئے۔ مولوی فقیر پر حکومت پاکستان کی طرف سے شروع سے الزام لگتا رہا ہے کہ وہ غیر ملکیوں کو پناہ دیتے رہے ہیں۔

دوسرا حملہ مدرسے پر کیا گیا جس میں اسّی کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری حکومت پاکستان نے قبول کی تھی تاہم مقامی ذرائع کے مطابق حملہ امریکی طیاروں سے کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد