BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 May, 2008, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: ’تحقیقات پوری ہونے دیں‘

وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق
وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق
پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے باجوڑ میں گزشتہ شب ہلاکتوں کے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جب تک یہ واضع نہیں ہو جاتا کہ دھماکے کی وجہ کیا تھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق سے آج ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں نے بار بار باجوڑ کے واقعے پر حکومت پاکستان کی خاموشی کے بارے میں سوالات کیے لیکن ان کا کہنا تھا کہ جب تک جاری تحقیقات سے یہ واضع نہیں ہو جاتا کہ آیا یہ میزائل یا راکٹ حملے تھا یا کہ اس مکان کے اندر دھماکہ خیر مواد سے ہوا وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

انہوں نے ان تحقیقات کے مکمل ہونے کی مدت بھی واضع کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ کافی دور دراز ہے اور وہاں سکیورٹی فورسز کی تعداد بھی کم ہے لہذا تحقیقات مکمل ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ کسی فریق نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

محمد صادق نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستان نے امریکہ کو خفیہ طور پر پاکستانی علاقے میں کارروائی کی اجازت دے رکھی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جب کبھی بھی کوئی سرحدی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس پر بات کرنے کا ایک نظام پہلے سے موجود ہے۔ یہ نظام پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی کمیشن ہے جس میں اس پر بات ہوتی ہے۔ ’اس کے علاوہ ہم دو طرفہ اور دیگر انتہائی اعلی سطحوں پر بھی اس مسئلہ کو اٹھاتے رہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس بابت بہت واضع پالیسی رہی ہے کہ پاکستانی سرزمین پر کارروائی کا حق صرف پاکستانی سیکورٹی فورسز کو ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ سرحدی علاقہ انتہائی دشوار گزار خطہ ہے لہذا کبھی کبھی خلاف ورزی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ ان خلاف ورزیوں کے بار بار ہونے کا مطلب ہے کہ فریقین کے درمیان اس سے بچنے کا نظام غیر موثر ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے پہلی ملاقات مصر میں سترہ مئی سے شروع ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے دوران متوقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد